خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 49
خطبات مسرور جلد 14 49 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 / جنوری 2016ء بمطابق 22 صلح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَجَزَوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشورى:41) اور بدی کا بدلہ کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے۔پس جو کوئی معاف کرے بشر طیکہ وہ اصلاح کرنے والا ہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔یقیناوہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اسلام میں سزا کا تصور اسلام میں کسی غلط حرکت کرنے والے، نقصان پہنچانے والے سے چاہے وہ چھوٹی سطح پر نقصان پہنچانے والا ہو یا بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے والا ہو یادشمن ہو ہر ایک سے ایسا سلوک کرنے کی تعلیم ہے جو اس کی اصلاح کا پہلو لئے ہوئے ہو۔اسلام میں سزا کا تصور ضرور ہے لیکن ساتھ معافی اور درگزر کا بھی حکم ہے۔اس آیت میں بھی جیسا کہ آپ نے سنا یہی حکم ہے کہ بدی اور برائی کرنے والے کو سزا دو لیکن اس سزا کے پیچھے بھی یہ محرک ہونا چاہئے کہ اس سزا سے بدی کرنے والے یا نقصان پہنچانے والے اور جرم کرنے والے کی اصلاح ہو۔پس جب اصلاح مقصد ہے تو پھر سزا دینے سے پہلے یہ سوچو کہ کیا سزا سے یہ مقصد حل ہو جاتا ہے۔اگر سوچنے کے بعد بھی، مجرم کی حالت دیکھنے کے بعد بھی اس طرف توجہ پھرتی ہے کہ اس مجرم کی اصلاح تو معاف کرنے سے ہو سکتی ہے تو پھر معاف کر دو یا اگر سزا دینے سے ہو سکتی ہے تو سزا دو۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ معاف کرنا بھی تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین اجر کا وارث بنائے گا۔آخر پر إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ کہہ کر یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر سزا میں حد سے بڑھنے کی کوشش کرو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔بہر حال یہ بنیادی قانون اور اصول سزا اور اصلاح کا قرآن شریف میں پیش ہوا ہے جو ہماری انفرادی زندگی کے معاملات پر بھی حاوی ہے اور