خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد 14 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 1999ء میں لندن سے کو ونٹری شفٹ کر گئے جہاں وفات تک سیکرٹری تربیت اور سیکرٹری وصایا کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔کافی بیماریاں ان کو آئیں اور بیماری کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر تقریب میں شرکت کرنے کی کوشش کرتے تھے اور جرمنی وغیرہ یورپ کے دورے میں جہاں بھی میں جاؤں میں نے دیکھا ہے وہاں پہنچے ہوتے تھے۔پچھلے دنوں بیمار بھی تھے اس کے باوجود یہ بڑی کوشش کر کے ہالینڈ میں پارلیمنٹ میں جو فنکشن ہوا تھا وہاں بھی پہنچے ہوئے تھے۔ان کو بعض کتب کی اشاعت کی بھی توفیق ملی جس میں سیرت حضرت اناں جان اور سیرت حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں اور دوسرے اقوال زریں اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ایک کتاب ہے جو شائع کرنے کی توفیق ملی۔نہایت شریف النفس، ملنسار اور مخلص انسان تھے۔خلافت کے ساتھ گہرا محبت اور اخلاص کا تعلق تھا، وفا کا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔آپ کی چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں اور بیٹے بھی جرمنی میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔بیٹی بھی یہاں مڈلینڈ کی لجنہ کی صد ر ہیں۔آپ کے بھائی حلیم طیب صاحب کہتے ہیں کہ 1947ء میں جب ہجرت کی تو والدہ صاحبہ کو ان کی بیماری کی حالت میں قادیان سے سیالکوٹ تک اپنے کندھوں پر اٹھا کر لائے اور اس خدمت کا ذکر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ایک خطبہ میں بھی فرمایا تھا۔ان کا گاؤں کھارا قادیان سے قریب ہی تھا۔پارٹیشن کے وقت وہاں حفاظت کا انتظام، ڈیوٹیاں دیتے رہے اور بڑی بہادری سے مستورات کی حفاظت کا سامان کرتے رہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے درویشان قادیان کی حفاظت اور اسیر ان کی رہائی کے لئے بعض امور کے لئے حکام سے ملنے کے لئے ہندوستان میں بھی ایک وفد تشکیل دیا تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ان کے قائد تھے اس میں یہ بھی شامل تھے۔الیاس منیر صاحب کہتے ہیں کہ مختلف منصوبوں کے نگران اور انچارج ہوتے تھے مگر میں نے آپ کو مزدوروں کی طرح کام کرتے بھی دیکھا ہے۔اسی طرح تعمیراتی سامان خریدتے وقت کم سے کم قیمت پر بہترین کوالٹی کی تلاش میں مختلف مارکیٹوں میں جا کر چکر لگا کر جماعت کے پیسے بچانے کی کوشش کرتے تھے۔خلافت سے محبت اور عقیدت ان کا بنیادی حصہ تھی۔ایک دفعہ آپ کے گھٹنے میں تکلیف تھی تو پھر کہتے کہ یہ عارضی تکلیف ہے۔مستقل نہیں ہو سکتی کیونکہ میرے دائیں گھٹنے پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ پاؤں رکھ کر گھوڑے پر سوار ہوئے تھے۔اس لئے اس کی برکت سے امید ہے کہ اس کو تکلیف نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے چلتے پھرتے رہے۔ایک زمانے میں ان پر بعض مشکل حالات بھی آئے، ابتلاء بھی آئے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وفا سے انہوں نے وقت گزارا اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھا۔اللہ تعالیٰ آپ سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے