خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 46
خطبات مسرور جلد 14 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 ڈھالیں ورنہ تو بہت سے بلکہ اکثریت بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ الا ماشاء اللہ اس وقت سب کے سب جو مسلمان بادشاہ ہیں اور جو لیڈر ہیں وہ اسلام کی تعلیم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔منہ پر تو اسلام کا نام ہے اور دل ذاتی مفادات کے حصول کے پیچھے ہیں۔ان سے ظلم ہو رہے ہیں۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے اسلام پھیلنا ہے اور آپ کے ذریعہ سے، کپڑوں سے لوگوں نے برکت حاصل کرنی ہے۔جو بادشاہ آئیں گے وہ آپ کے ذریعہ سے اسلام کی حقیقی تعلیم کو سمجھ کر آئیں گے اور یہی حقیقی برکت ہے اور اس کے لئے ہمیں بھی اس حقیقی تعلیم کا علم ہونا چاہئے اور اس کے مطابق تبلیغ ہونی چاہئے اور نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔تبھی الہام "بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے " کی صحیح حقیقت آشکار ہو سکے گی اور اس کی ہمیں سمجھ بھی آئے گی اور ہم تبلیغ کے اعلیٰ معیار پیدا کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ اس بات کو سمجھنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔جمعہ کی نماز کے بعد میں بعض جنازے بھی پڑھاؤں گا جن میں سے دو جنازہ حاضر ہیں۔ایک غائب ہے۔ایک جنازہ مکرم چوہدری عبد العزیز ڈوگر صاحب کا ہے جو یہاں کوونٹری(Coventry) میں کچھ عرصے سے رہ رہے تھے۔11/ جنوری 2016ء کو 87 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ ماسٹر چراغ دین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔قادیان کے قریب کھارا ان کا گاؤں تھا۔ان کو (ماسٹر چراغ دین صاحب کو ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلاس فیلو ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔آپ کے والد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر دستی بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔آپ کے گاؤں کھارا میں احمدیت آپ کے دادا حضرت چوہدری امیر بخش صاحب کے ذریعہ سے آئی تھی۔(ان کے والد کی بات ہو رہی ہے چوہدری عزیز ڈوگر صاحب کے )۔چوہدری عبد العزیز ڈوگر صاحب کو بھی ساری عمر جماعت کی خدمت کرنے کی توفیق ملی۔ابتدا میں آپ نے تقریباً 1 3 سال تک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ دوا خانہ خدمت خلق میں کام کیا۔اور یہ حضرت مصلح موعود کا دواخانہ تھا اس میں کام کیا اور ساتھ میں حضور نے ہی خود ان کو طب سکھائی تھی۔اور خلافت رابعہ میں پھر مرکز نے آپ کو گیمبیا اور جرمنی وغیرہ ممالک میں مختلف تعمیراتی کاموں کی نگرانی کرنے کے لئے بھیجا۔اس طرح آپ کو جماعتی عمارات بنانے کی توفیق ملی۔ربوہ کے قیام کے دوران خدام الاحمدیہ میں آپ مہتم مقامی بھی رہے۔پھر چند سال تحریک جدید میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔1974ء میں آپ کو اسیر راہ مولیٰ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔چیئر مین احمدی اطبا ایسوسی ایشن اور صدر احمدی تجار ایسوسی ایشن کی حیثیت سے بھی کام کیا۔