خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 678
خطبات مسرور جلد 14 678 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 چلا آیا ہوں۔میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہو گا کہ ان تمام وصیتوں کے کار بند ہوں۔اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو۔اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے۔اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور در گذر کی عادت ڈالو۔ہر جگہ مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔معاف کرنے کی عادت ڈالو۔" اور صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذبات نفس کو دبائے رکھو۔اور اگر کوئی بحث کرو یا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ اور مہذبانہ طریق سے کرو۔" بحث کرنی ہے ، مذہبی گفتگو کرنی ہے تو کرو لیکن مہذبانہ طریق پر " اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اٹھ جاؤ۔اگر تم ستائے جاؤ اور گالیاں دیئے جاؤ اور تمہارے حق میں بُرے بُرے لفظ کہے جائیں تو ہوشیار رہو کہ سفاہت کا سفاہت کے ساتھ تمہارا مقابلہ نہ ہو ورنہ تم بھی ویسے ہی ٹھہرو گے جیسا کہ وہ ہیں۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہر و۔سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلد نکالو جو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بد نفسی کا نمونہ ہے۔جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پرہیز گاری اور حلم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جدا ہو جائے۔کیونکہ ہمارا خد ا نہیں چاہتا کہ ایسا شخص ہم میں رہے اور یقیناوہ بد بختی میں مرے گا کیونکہ اس نے نیک راہ کو اختیار نہ کیا۔سو تم ہوشیار ہو جاؤ اور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راستباز بن جاؤ۔تم پنجوقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کئے جاؤ گے۔اور جس میں بدی کا بیج ہے وہ اس نصیحت پر قائم نہیں رہ سکے گا۔" فرماتے ہیں کہ " چاہئے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بری اور تمہاری آنکھیں ناپاکی سے منزہ ہوں۔اور تمہارے اندر بجز راستی اور ہمدردی خلائق کے اور کچھ نہ ہو۔" فرماتے ہیں: " میرے دوست جو میرے پاس قادیان میں رہتے ہیں میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے تمام انسانی قوی میں اعلیٰ نمونہ دکھائیں گے۔" فرماتے ہیں کہ "میں نہیں چاہتا کہ اس نیک جماعت میں کبھی کوئی ایسا آدمی مل کر رہے جس کے حالات مشتبہ ہوں یا جس کے چال چلن پر کسی قسم کا اعتراض ہو سکے یا اس کی طبیعت میں کسی قسم کی مفسدہ پردازی ہو یا کسی اور قسم کی ناپاکی اس میں پائی جائے۔لہذا ہم پر یہ واجب اور فرض ہو گا کہ اگر ہم کسی کی نسبت کوئی شکایت سنیں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرائض کو عمد اضائع کرتا ہے " جان بوجھ کر ضائع کرتا ہے" یا کسی ٹھٹھے اور بیہودگی کی مجلس میں بیٹھا ہے "مخالفین کی ایسی مجلسوں میں بیٹھتا ہے جہاں ٹھٹھا اور بیہودگی ہو رہی ہے یا ویسے ایسی مجالس ہیں جو گندی مجالس ہیں یا کسی اور قسم کی بد چلنی اس میں ہے تو وہ فی الفور اپنی جماعت سے الگ کر دیا جائے گا۔" پھر آپ فرماتے ہیں: " اصل بات یہ ہے کہ ایک کھیت جو محنت سے طیار کیا جاتا اور پکایا جاتا ہے اس کے