خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 677 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 677

خطبات مسرور جلد 14 677 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کار کھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بد چلنی ان کے نزدیک نہ آسکے۔وہ پنجوقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔وہ جھوٹ نہ بولیں۔وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔وہ کسی قسم کی بدکاری کے مر تکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکر دنی اور نا گفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بیجا حرکات سے مجتنب رہیں۔"ہر قسم کے گناہوں سے اپنے آپ کو بچا کے رکھیں۔فرمایا کہ " اور بیجا حرکات سے مجتنب رہیں اور خد اتعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہر یلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے۔" فرماتے ہیں۔تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو۔" صرف مومن مومن کی ہمدردی نہ کرے بلکہ تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو۔" اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں۔اور پنجوقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدی اور غبن اور رشوت اور اتلاف حقوق اور بیجاطر فراری سے باز رہیں۔اور کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں۔اور اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو اُن کے ساتھ آمد و رفت رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا پابند نہیں ہے۔۔۔یا حقوق عباد کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا اور یا ظالم طبع اور شریر مزاج اور بد چلن آدمی ہے اور یا یہ کہ جس شخص سے تمہیں تعلق بیعت اور ارادت ہے اس کی نسبت ناحق اور بے وجہ بد گوئی اور زبان درازی اور بد زبانی اور بہتان اور افتراء کی عادت جاری رکھ کر خدا تعالیٰ کے بندوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے تو تم پر لازم ہو گا کہ اس بدی کو اپنے در میان سے دُور کرو اور ایسے انسان سے پر ہیز کرو جو خطرناک ہے۔یعنی ہر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بولتا ہے اس کی صحبت میں بیٹھنے سے، اس سے دوستی رکھنے سے، اس سے تعلق رکھنے سے بچو کیونکہ یہ بہت خطر ناک چیز ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تبلیغ نہیں کرنی۔مطلب یہ ہے کہ غیروں کو تو کرنی ہے لیکن وہ لوگ جو منافق طبع ہوتے ہیں یا غلط قسم کی باتیں کرنے والے ہیں اور اس بات پر مُصر ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سوائے گالیوں کے علاوہ اور بات ہی نہیں کرنی یا جماعت کے خلاف بولنا ہے، ان سے بچو۔جو سعید فطرت ہیں وہ بات سنتے بھی ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " اور چاہئے کہ کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو۔اور ہر ایک کے لئے سچے ناصح بنو۔اور چاہئے کہ شریروں اور بد معاشوں اور مفسدوں اور بد چلنوں کو ہر گز تمہاری مجلس میں گزر نہ ہو اور نہ تمہارے مکانوں میں رہ سکیں کہ وہ کسی وقت تمہاری ٹھو کر کا موجب ہوں گے۔"اگر زیادہ قریب رہیں گے تو تمہیں بھی ٹھوکر لگے گی۔فرمایا " یہ وہ امور اور وہ شرائط ہیں جو میں ابتدا سے کہتا