خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد 14 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 چنانچہ باپ نے ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے بھاگنا اور اس نے شور مچاتے اور چیختے چلاتے ہوئے حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جانا اور کہنا حضور مار دیا مار دیا۔اتنے میں والد نے بھی آجانا اور کہنا باہر نکل تیری خبر لیتا ہوں۔حضرت صاحب نے یہ حالت دیکھ کر پوچھنا کہ کیا بات ہے۔کیوں چھوٹے بچے کو مارتے ہو ؟ کہنا حضور سات آٹھ دن ہوئے اس کو جوتی لے کر دی تھی وہ اس نے گم کر دی ہے۔اس وقت میں خاموش رہا۔پھر لے کر دی وہ بھی گم کر دی۔اب مجھ میں طاقت کہاں ہے کہ اس کو اور جوتی لے کر دوں۔میں اسے سزا دوں گا۔اگر آج سزا نہ دی تو کل پھر جوتی گم کر دے گا۔حضرت صاحب نے بتانا میاں بتاؤ جوتی کتنے کی آتی ہے ؟ کہنا حضور تین روپے کی۔حضرت صاحب نے فرمانا اچھا تین روپے لے لو اور اس کو کچھ نہ کہو۔تین روپے لے کر واپس آجانا۔چار دن بھی نہیں گزرے ہوں گے پھر لڑکے نے شور مچانا۔حضرت صاحب کے کمرے میں ٹھس جاتا تھا۔شور مچاتا ہوا۔انہوں نے پھر لاٹھی لے کر اس کے پیچھے پیچھے آنا اور کہنا باہر نکل۔اس دن حضرت صاحب کے کہنے پر چھوڑ دیا تو آج تجھے نہیں چھوڑوں گا۔یہ اسے کہتے۔حضرت صاحب نے پوچھنا کیا بات ہوئی۔آج کیوں بچے کو مارتے ہو ؟ اس نے کہنا حضور اس دن تو میں نے آپ کے کہنے پر چھوڑ دیا تھا۔آج اسے نہیں چھوڑنا۔آج پھر یہ جوتی گم کر آیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمانا اسے نہ مارو جوتی کی قیمت مجھ سے لے لو۔پھر انہوں نے جو رقم بتانی وصول کر کے لے جانی اور کہنا حضور میں نے اس دفعہ چھوڑنا تو نہیں تھا لیکن آپ کے فرمانے پر چھوڑ دیتا ہوں۔غرض اس طرح انہوں نے کرتے رہنا لیکن کتابت ایسی اچھی کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہی سے اپنی کتابیں لکھوایا کرتے تھے اور یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی معمولی کاتب سے کتاب لکھوا کر خراب کی جائے کیونکہ اس طرح کتاب کا معیار لوگوں کی نظر میں کم ہو جاتا ہے۔(ماخوذ از انوارالعلوم جلد 18 صفحہ 227 تا230) بہر حال یہ تو ایک لطیفہ تھا کہ جوتی کا ذکر کیایا تنخواہ بڑھانے کا ذکر کیا لیکن اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اپنی کتب کی چھپوائی کے بارے میں جو ایک خاص فکر نظر آتی ہے اس کا پتا چلتا ہے کہ غیروں کے سامنے بھی اسلام کے دفاع اور اس کی خوبصورتی کے بارے میں جو ممکنہ عمدہ چیز پیش ہو سکتی ہے وہ کی جائے اور اپنوں کے علم میں اضافے کے لئے بھی بہترین شکل میں اسلام کی تعلیم سامنے آئے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو ہمیں خاص طور پر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے انہی سے ہمارا دینی علم بھی بڑھے گا اور ہمیں تبلیغ کا شوق بھی پیدا ہو گا۔ہمارے علم میں برکت بھی پڑے گی اور دنیا کو ہم اسلام کے جھنڈے تلے لانے کے قابل ہوں گے۔اصل برکت تو یہ ہے کہ بادشاہوں کو اسلام کا حقیقی علم حاصل ہو اور وہ اس کے مطابق اپنی زندگیاں