خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 674
خطبات مسرور جلد 14 674 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 میں جبکہ ہر طرف بے حیائی پھیلی ہوئی ہے ان نفسانی جو شوں سے بچنا بھی ایک جہاد ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم پانچ وقت نمازوں کا التزام کرتے رہے ہیں۔سال میں با قاعدگی سے پڑھتے رہے ہیں کہ اس کی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ تلقین فرمائی ہے، نصیحت فرمائی ہے بلکہ حکم دیا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو چھوڑ نا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة حديث 82) پھر ہم نے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا نماز تہجد پڑھنے کی طرف ہماری توجہ رہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بارے میں ارشاد ہے کہ نماز تہجد کا التزام کرو۔اس میں با قاعدگی پیدا کرنے کی کوشش کرو؟ یہ صالحین کا طریق ہے۔فرمایا کہ یہ قرب الہی کا ذریعہ ہے۔فرمایا کہ اس کی عادت گناہوں سے روکتی ہے۔فرمایا کہ برائیوں کو ختم کرتی ہے اور جسمانی بیماریوں سے بھی بچاتی ہے۔(سنن الترمذى كتاب الدعوات باب فى دعاء النبی اللہ حدیث 3549) پھر ہم نے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی با قاعدہ کوشش کرتے رہے ہیں یا کرتے ہیں کہ یہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے خاص حکموں میں سے ایک حکم ہے اور یہ دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر درود کے بغیر دعائیں ہیں تو یہ زمین اور آسمان کے درمیان ٹھہر جاتی ہیں۔(سنن الترمذى كتاب الصلاة ابواب الوتر باب ما جاء في فضل الصلاة على النبی اللہ حدیث 486) اگر تم نے درود نہیں پڑھا اور تم دعائیں کر رہے ہو تو زمین سے دعائیں اٹھیں گی آسمان تک نہیں پہنچیں گی در میان میں ٹھہر جائیں گی کیونکہ ان میں وہ طریق شامل نہیں جو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔آسمان تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ دعاؤں کے ساتھ درود بھی ہو۔پھر سوال ہم نے یہ کرتا ہے کہ کیا ہم باقاعدگی سے استغفار کرتے رہے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ جو شخص استغفار کو چمٹارہتا ہے یعنی با قاعدگی سے کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور ہر مشکل سے کشائش کی راہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے ان راہوں سے رزق عطا کرتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔(سنن ابی داؤد ابواب الوتر باب فى الاستغفار حديث 1518) پھر سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے کی طرف ہماری توجہ رہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جانے والا کام ناقص رہتا ہے، بے برکت ہوتا ہے، بے اثر ہوتا ہے۔(سنن ابن ماجه - كتاب النكاح باب خطبة النكاح حديث 1894)