خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 675
خطبات مسرور جلد 14 675 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنوں اور غیروں سب کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے سے گریز کرتے رہے ہیں ؟ کیا ہمارے ہاتھ اور ہماری زبانیں دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچی رہی ہیں ؟ کیا ہم عفو اور در گذر سے کام لیتے رہے ہیں ؟ کیا عاجزی اور انکساری ہمارا امتیاز رہا ہے۔کیا خوشی غمی تنگی اور آسائش ہر حالت میں ہم خد اتعالیٰ کے ساتھ وفا کا تعلق رکھتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے کبھی کوئی شکوہ تو نہیں پیدا ہوا کہ میری دعائیں کیوں قبول نہیں کی گئیں یا مجھے اس تکلیف میں کیوں مبتلا کیا گیا۔اگر یہ شکوہ ہے تو کوئی انسان مومن نہیں رہ سکتا۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہر قسم کی رسوم اور ہو اوہوس کی باتوں سے ہم نے پوری طرح بیچنے کی کوشش کی ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رسوم اور بدعات تمہیں گمراہی کی طرف لے جاتی ہیں ان سے بچو۔(سنن الترمذی کتاب العلم باب ما جاء فى الاخذ بالسنة واجتناب البدع حديث 2676) پھر سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور ارشادات کو ہم مکمل طور پر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ؟ پھر یہ سوال ہے کہ کیا تکبر اور نخوت کو ہم نے مکمل طور پر چھوڑا ہے یا اس کے چھوڑنے کے لئے کوشش کی ہے کہ شرک کے بعد سب سے بڑی بلا تکبر اور نخوت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ متکبر جنت میں داخل نہیں ہو گا اور تکبر یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرے۔لوگوں کو ذلیل سمجھے۔ان کو حقارت کی نظر سے دیکھے اور ان سے بری طرح پیش آئے۔(صحیح مسلم كتاب الايمان باب تحريم الكبر وبيانه حديث 147) ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے خوش خلقی کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ؟ کیا ہم نے حلیمی مسکینی کو اپنانے کی کوشش کی ہے؟ مسکینوں کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں کتنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ۔مجھے مسکینی کی حالت میں موت دے اور مجھے مسکینوں کے گروہ میں ہی اٹھانا۔(سنن ابن ماجه کتاب الزهد باب مجالسة الفقراء حديث 4126) پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہر دن ہمارے اندر دین میں بڑھنے اور اس کی عزت و عظمت قائم کرنے والا بنتا رہا ہے ؟ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد جو ہم اکثر دہراتے ہیں صرف کھو کھلا عہد تو نہیں رہا۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کی محبت میں ہم نے اس حد تک بڑھنے کی کوشش کی ہے کہ اپنے مال پر اس کو فوقیت دی۔اپنی عزت پر اس کو فوقیت دی۔اور اپنی اولاد سے زیادہ اسے عزیز اور پیارا سمجھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا نے مجھے دین اسلام دے کر بھیجا ہے اور اسلام یہ ہے کہ تم اپنی پوری ذات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دو۔دوسرے معبودوں