خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 673 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 673

خطبات مسرور جلد 14 673 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 سختی سے ، لڑائی سے ، جب لڑائی جھگڑا ہوتا ہے اس وقت آدمی سخت الفاظ بھی کہہ دیتا ہے اور برے الفاظ بھی کہہ دیتا ہے اور ایک مومن دوسرے مومن سے جب یہ کر رہا ہو تو یہ فسق ہے بلکہ کسی سے بھی جب کر رہا ہو تو یہ فسق ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ تاجر فاجر ہوتے ہیں۔عرض کیا گیا یہ تو حلال ہے۔تجارت کرنا تو حلال ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مگر جب یہ لوگ سودا بازی کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر قیمتیں بڑھاتے ہیں۔اسی طرح آپ نے شکر اور صبر نہ کرنے والوں کو بھی فاسق فرمایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 385-386 حدیث عبد الرحمن بن شبل حدیث نمبر 15752- 15753 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس یہ ہے گہرائی فسق سے بچنے کی۔پھر سوال یہ ہے جو ہم نے اپنے آپ سے کرنا ہے کہ کیا ہم نے اپنے آپ کو ہر ظلم سے بچا کر رکھا ہے۔یعنی ظلم کرنے سے بچا کے رکھا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کی ایک ہاتھ زمین بھی دبالینا۔تھوڑی سی زمین بھی کسی کی دبالینا یا کسی کا ایک کنکر جو چھوٹا سا پتھر جو ہے، کنکری، مٹی کا ٹکڑہ، وہ بھی غلط طریق سے لینا ظلم ہے۔(صحيح البخارى كتاب فى المظالم و الغضب باب اثم من ظلم شيئا من الارض حديث 2452) پس یہ معیار ہے جس پہ ہم نے اپنے آپ کو پر کھنا ہے۔پھر سوال یہ کرنا ہے کہ کیا ہم نے ہر قسم کی ا خیانت سے اپنے آپ کو پاک رکھا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے بھی خیانت نہیں کرنی جو تم سے خیانت کرتا ہے۔یہ ہے معیار۔پھر ہم نے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا ہم نے ہر قسم کے فساد سے بچنے کی کوشش کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شریر ترین لوگ فسادی ہیں اور یہ فسادی ہیں جو چغل خوری سے فساد پیدا کرتے ہیں۔یہاں کی بات وہاں لگائی، ادھر سے اُدھر بات پھیلائی وہ لوگ فسادی ہیں۔جو لوگ محبت کرنے والوں کے در میان بگاڑ پید اکرتے ہیں وہ فسادی ہیں۔جو فرمانبردار ہیں، اطاعت کرنے والے ہیں، نظام کی ہر بات کو ماننے والے ہیں یا دین کی ہر بات کو ماننے والے ہیں انہیں کسی غلط کام میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا گناہ میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ فسادی ہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب في الرجل ياخذ حقه من تحت يده حديث 3534) (مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 914 حدیث اسماء بنت يزيد حديث نمبر 28153 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس فساد کے ہونے کا اور فساد سے بچنے کا یہ معیار ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہر قسم کے باغیانہ رویے سے پر ہیز کرنے والے ہم ہیں ؟ پھر یہ سوال ہے کہ کیا ہم نفسانی جو شوں سے مغلوب تو نہیں ہو جاتے ؟ آجکل کے زمانے