خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 672
خطبات مسرور جلد 14 672 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 تھیں۔اس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح فرمائی ہے۔فرمایا کہ : " توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا إِلهَ إِلَّا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بُبت جمع ہوں۔بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خد اتعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے ان سب صورتوں میں وہ خد اتعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔" (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349) پس اس معیار کو سامنے رکھ کر جائزے کی ضرورت ہے۔پھر اس کے بعد یہ سوال ہے کہ کیا ہمار ا سال جھوٹ سے مکمل طور پر پاک ہو کر اور کامل سچائی پر قائم رہتے ہوئے گزرا ہے ؟ یعنی ایسا موقع آنے پر جب سچائی کے اظہار سے اپنا نقصان ہو رہا ہو لیکن پھر بھی سچائی کو نہ چھوڑا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا معیار یہ مقرر فرمایا ہے کہ : "جب تک انسان اُن نفسانی اغراض سے علیحدہ نہ ہو جو راست گوئی سے روک دیتے ہیں تب تک حقیقی طور پر راست گو نہیں ٹھہر سکتا۔" فرمایا "سچ کے بولنے کا بڑا بھاری محل اور موقع وہی ہے جس میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا اندیشہ ہو۔" اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 360) پھر یہ سوال ہے۔کیا ہم نے اپنے آپ کو ایسی تقریبوں سے دُور رکھا ہے جن سے گندے خیالات دل میں پیدا ہو سکتے ہوں۔یعنی آجکل اس زمانے میں ٹی وی ہے، انٹر نیٹ ہے۔یا اس قسم کی چیز میں اور ان پر ایسے پروگرام جو خیالات کے گندہ ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں کیا ان سے ہم نے اپنے آپ کو بچایا ؟ اگر ہم ان ذریعوں سے گندی فلمیں اور پروگرام دیکھ رہے ہیں تو ہم عہد بیعت سے دُور ہٹ گئے ہیں اور ہماری حالت قابل فکر ہے کیونکہ یہ باتیں ایک قسم کے زنا کی طرف لے جاتی ہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے بد نظری سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں ؟ کیونکہ بد نظری کا جہاں تک سوال ہے۔اس میں یہ جو حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو اور غض بصر سے کام لو، یہ عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے ہے کیونکہ کھلی نظر سے دیکھنے سے ( بد نظری کے ) امکانات پید اہو سکتے ہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے فسق و فجور کی ہر بات سے اس سال میں بچنے کی کوشش کی ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد2 صفحہ 153 مسند عبد الله بن مسعود حدیث نمبر 4178 عالم الكتب بيروت 1998ء)