خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 671
خطبات مسرور جلد 14 671 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 نہ صرف ان لغویات سے بچے اور بیزاری کا اظہار کرے بلکہ اپنا جائزہ لے اور غور کرے کہ اس کی زندگی میں ایک سال آیا اور گزر گیا۔اس میں وہ ہمیں کیا دے کر گیا اور کیا لے کر گیا۔ہم نے اس سال میں کیا کھویا اور کیا پایا۔ایک مومن نے دنیاوی لحاظ سے دیکھنا ہے کہ اس سال میں اس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔اس کی دنیاوی حالت میں کیا بہتری پیدا ہوئی یادینی لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے دیکھنا ہے کہ کیا کھویا اور کیا پایا اور اگر دینی اور روحانی لحاظ سے دیکھنا ہے تو کس معیار پر رکھ کر دیکھنا ہے تاکہ پتا چلے کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی معہود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جنہوں نے ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیم کا نچوڑیا خلاصہ نکال کر رکھ دیا اور ہمیں کہا کہ تم اس معیار کو سامنے رکھو تو تمہیں پتا چلے گا کہ تم نے اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کیا ہے یا پورا کرنے کی کوشش کی ہے یا نہیں ؟ اس معیار کو سامنے رکھو گے تو صحیح مومن بن سکتے ہو۔یہ شرائط ہیں ان پر چلو گے تو صحیح طور پر اپنے ایمان کو پر کھ سکتے ہو۔ہر احمدی سے آپ نے عہد بیعت لیا اور اس عہد بیعت میں شرائط بیعت ہمارے سامنے رکھ کر لائحہ عمل ہمیں دے دیا جس پر عمل اور اس عمل کا ہر روز ہر ہفتے ہر مہینے اور ہر سال ایک جائزہ لینے کی ہر احمدی سے امید اور توقع بھی کی۔پس ہم سال کی آخری رات اور نئے سال کا آغاز اگر جائزے اور دعا سے کریں گے تو اپنی عاقبت سنوارنے والے ہوں گے۔اور اگر ہم بھی ظاہری مبارکبادوں اور دنیا داری کی باتوں سے نئے سال کا آغاز کریں گے تو ہم نے کھویا تو بہت کچھ اور پایا کچھ نہیں یا بہت تھوڑا پایا۔اگر کمزوریاں رہ گئی ہیں اور ہمارا جائزہ ہمیں تسلی نہیں دلا رہا تو ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہمارا آنے والا سال گزشتہ سال کی طرح روحانی کمزوری دکھانے والا سال نہ ہو۔بلکہ ہمارا ہر قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اٹھنے والا قدم ہو۔ہمارا ہر دن اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے والا دن ہو۔ہمارے دن اور رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد بیعت نبھانے کی طرف لے جانے والے ہوں۔وہ عہد جو ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے شرک نہ کرنے کے عہد کو پورا کیا۔بتوں اور سورج چاند کو پوجنے کا شرک نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ شرک جو اعمال میں ریاء اور دکھاوے کا شرک ہے۔وہ شرک جو مخفی خواہشات میں مبتلا ہونے کا شرک ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 800-801 - حدیث محمود بن لبيد حدیث نمبر 24036۔عالم الكتب بيروت 1998ء) کیا ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے صدقات ، ہماری مالی قربانیاں، ہمارے خدمت خلق کے کام ، ہمارا جماعت کے کاموں کے لئے وقت دینا، خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے غیر اللہ کو خوش کرنے یا دنیا دکھاوے کے لئے تو نہیں تھا۔ہمارے دل کی چھپی ہوئی خواہشات اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر کھڑی تو نہیں ہو گئی