خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 670 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 670

خطبات مسرور جلد 14 670 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2016ء بمطابق 30 فتح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو دن بعد انشاء اللہ نیا سال شروع ہو رہا ہے۔ہم مسلمان تو قمری سال سے بھی سال شروع کرتے ہیں اور شمسی سال سے بھی۔یہ قمری سال صرف مسلمانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ بہت سی قوموں میں پرانے زمانے میں قمری سال سے ہی سال شروع کیا جاتا تھا۔چینیوں میں بھی یہ رواج ہے ، ہندوؤں میں بھی ہے اور قوموں میں بھی ہے۔بہت سے مذہبوں میں پایا جاتا ہے۔اور اسلام سے پہلے عرب میں بھی دنوں کے حساب کے لئے قمری کیلنڈر ہی رائج تھا۔بہر حال دنیا میں عام طور پر یہ گریگورئین کیلنڈر رائج ہے اور سب اس کو سمجھتے ہیں۔اس لئے ہر قوم اور ہر ملک نے اس کیلنڈر کو اپنے دن اور مہینوں کے حساب کے لئے اپنا لیا ہے تو اسی وجہ سے دنیا میں ہر سال ہر جگہ اس کے حساب سے یکم جنوری سے سال شروع ہوتا ہے اور 31 دسمبر کو ختم ہو تا ہے۔بہر حال سال آتے ہیں، بارہ مہینے گزرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں چاہے قمری مہینے کے سال ہوں یا یہ جو رائج کیلنڈر ہے گریگورئین کیلنڈر اس کے سال ہوں۔لیکن دنیا والے چاہے وہ مسلمانوں میں سے ہیں یا غیر مسلموں میں سے دنوں اور مہینوں اور سالوں کو دنیاوی غل غپاڑے اور ہاؤ ہو اور دنیاوی تسکین کے کاموں میں گزار کر بیٹھ جاتے ہیں۔نئے سال کے آغاز پر جو یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے دنیا والے کیا کچھ نہیں کرتے۔مغربی ممالک میں یا ترقی یافتہ ممالک میں خاص طور پر اور باقی دنیا میں بھی 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات کو کیا کچھ شور وغل نہیں ہو تا۔آدھی رات تک خاص طور پر جاگا جاتا ہے بلکہ ساری ساری رات صرف شور شرابے کے لئے، شراب کباب کے لئے ، ناچ گانے کے لئے جاگتے ہیں۔گویا گزشتہ سال کا اختتام بھی لغویات اور بیہودگیوں کے ساتھ ہوتا ہے اور نئے سال کا آغاز بھی لغویات کے ساتھ ہوتا ہے۔دنیا کی اکثریت کی دین کی آنکھ تو اندھی ہو چکی ہے اس لئے ان کی نظر تو وہاں تک پہنچ نہیں سکتی جہاں مومن کی نظر پہنچتی ہے اور پہنچنی چاہئے۔ایک مومن کی شان تو یہ ہے کہ