خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 669
خطبات مسرور جلد 14 669 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23دسمبر 2016 حالات کی وجہ سے خالد جاوید صاحب کو طبی معائنہ کے لئے یا طبی امداد کے لئے لے جایا نہیں جاسکا۔اس حالت میں مکرم خالد جاوید صاحب کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کی دادی مکر مہ مانوبی صاحبہ کے ذریعہ سے ہوا جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی کرم داد صاحب کی بھانجی تھیں جو دوالمیال جماعت کے بانی احمدیوں میں سے تھے۔پاکستان میں تو پابندیاں ہیں تو لکھنے والے اس طرح رپورٹ بھیجتے ہیں کہ صحابی کو رفیق لکھتے ہیں اور مسجد کو دارالذکر۔ان کی یہ رپورٹ جو دفتر مجھے ٹائپ کر کے دیتا ہے تو اس میں اصلاح کر دیا کرے اور جو صحیح اسلامی الفاظ ہیں وہ استعمال کئے جائیں۔مرحوم بفضلہ تعالی پیدائشی احمدی تھے۔اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے۔اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ خلافت سے والہانہ محبت اور اخلاص کا وصف نمایاں تھا۔پنجگانہ نماز کے علاوہ تہجد اور بلند آواز میں تلاوت قرآن کریم کرنے کے عادی تھے۔ایک بڑا لمبا عرصہ ، ہیں سال یہ روزگار کے سلسلہ میں شارجہ میں مقیم رہے۔پھر گزشتہ بیس سال سے دوالمیال واپس آگئے تھے اور ان کا اکثر وقت کئی سالوں سے مسجد میں ہی گزرتا تھا۔اس دوران جماعتی امور کی انجام دہی اور مسجد کی سیکیورٹی اور دیگر جماعتی معاملات میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔قرآن کریم سے خاص عشق تھا۔اپنے ایک بیٹے سبحان ایوب صاحب کو بھی قرآن حفظ کروایا۔مرحوم اس وقت سیکرٹری تعلیم القرآن کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پارہے تھے اور اس کے علاوہ بھی مختلف حیثیتوں سے ان کو جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔پسماندگان میں اہلیہ محترمہ عذرا بیگم صاحبہ کے علاوہ دو بیٹے سلمان خالد جو یہاں یو کے میں رہتے ہیں اور حافظ سبحان ایوب اور دو بیٹیاں ہیں ندامریم اور حرا مریم۔یہ سوگوار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد میں بھی یہ نیکیاں جاری فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 13 جنوری 2017ء تا 19 / جنوری 2017ء جلد 24 شمارہ 02 صفحه 05 تا 08)