خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 668 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 668

خطبات مسرور جلد 14 668 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 پس اس صدق کے قدم پر ہمیں چلنے کی ضرورت ہے تا کہ ان فتوحات کے نظارے ہم کر سکیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وابستہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مقدر کی ہوئی ہیں۔یہ ابتلا کا دور یقیناً ختم ہونے والا دور ہے لیکن اس میں تیزی پیدا کرنے کے لئے ہمیں اپنے تقویٰ کے معیاروں کو بڑھانے اور بڑھاتے چلے جانے کی ضرورت ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں یہ جماعت اس لئے قائم فرمائی ہے کہ اسلام کا دنیا میں بول بالا ہو اور اسلام دنیا میں پھیلے اور سب دینوں پر اسلام کو غلبہ حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اس جماعت نے بڑھنا ہے، پھلنا ہے اور پھولنا ہے اور کوئی دنیاوی طاقت اسے ختم نہیں کر سکتی۔آپ فرماتے ہیں کہ : " یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔" یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔"تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309) اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اس درخت کی پھلنے پھولنے والی شاخ بن جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی جماعت سے جو توقعات ہیں ان پہ ہم پورا اترنے والے ہوں۔تقویٰ میں ترقی کرنے والے ہوں اور صبر اور دعا کے ساتھ دشمن کے ہر حملے کو ناکام و نامراد کرتے چلے جانے والے ہوں۔نمازوں کے بعد میں ایک غائب جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو مکرم ملک خالد جاوید صاحب ابن مکرم ملک ایوب احمد صاحب دوالمیال ضلع چکوال کا ہے۔ملک خالد جاوید صاحب بعمر 69 سال مورخہ 12 دسمبر 2016ء کو دارالذکر دوالمیال ضلع چکوال میں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پاگئے تھے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تفصیلات کے مطابق مورخہ 12 / دسمبر 2016ء ( بارہ ربیع الاول) کو مخالفین نے دوالمیال ضلع چکوال میں بہت بڑا جلوس نکالا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنا مقررہ رُوٹ تبدیل کرتے ہوئے احمد یہ دارالذکر پر حملہ کیا۔احمد یہ مسجد پر حملہ کیا اور مسجد کے باہر آکر اشتعال انگیز نعرے بازی اور پتھر اؤ شروع کر دیا۔نیز مسجد کے گیٹ کو توڑنا شروع کیا۔دوسری طرف ہمارے لوگ بھی تھے ان میں یہ خالد صاحب بھی شامل تھے۔مرحوم کی فیملی کے مطابق مرحوم کو قبل ازیں دل کی تکلیف کبھی نہیں تھی اور نہ کبھی دل کی کوئی دوا لیتے تھے اور نہ ہی کبھی زیر علاج رہے۔وفات سے قبل یہ مسجد کے اندر تھے اور جب یہ مخالفین حملہ کر رہے تھے تو یہ ایک ہی بات مسلسل دہرا رہے تھے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اس قدر گندی اور ناپاک زبان بر داشت نہیں کر سکتا۔ان الفاظ کے ساتھ ہی وہ بیہوش ہو گئے۔باہر ہزاروں کی تعداد میں موجود مشتعل ہجوم اور کشیدہ رپر