خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 667
خطبات مسرور جلد 14 667 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 ہے بغیر عزت دینے کے نہیں چھوڑ تا تو کیا جس شخص کو خود خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے اور گزشتہ سوا سو سال سے ہم جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات دیکھ رہے ہیں آج اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کو باقی وعدے پورے کئے بغیر چھوڑ دے گا بغیر عزت کے چھوڑ دے گا کبھی یہ نہیں ہو سکتا لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ثبات قدم اور مستقل مزاجی سے ملے گا۔یہ شرط ہے۔اگر ہم مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑے رہیں گے تو ہم دشمن کی خاک اڑتے بھی انشاء اللہ دیکھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " اگر تمہاری زندگی اور تمہاری موت اور تمہاری ہر ایک حرکت اور تمہاری نرمی اور گرمی یعنی خوش مزاجی بھی اور غصہ بھی " محض خدا کے لئے ہو جائے گی۔" ذاتی اغراض کے لئے کسی پہ غصہ نہ ہو، نہ کسی دنیاوی چیز کو دیکھ کر خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ چیزیں ہوں تو پھر فرمایا اور ہر ایک تلخی اور مصیبت کے وقت تم خدا کا امتحان نہیں کرو گے اور تعلق کو نہیں توڑو گے بلکہ آگے قدم بڑھاؤ گے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک خاص قوم ہو جاؤ گے۔تم بھی انسان ہو جیسا کہ میں انسان ہوں اور وہی میرا خدا تمہارا خدا ہے۔پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو۔اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے۔خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر کرو تا خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 308) پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنی حالتوں میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جو کمزور ہیں وہ اپنے جائزے لیں۔جو اپنے آپ کو بہتر سمجھتے ہیں وہ بھی نیکیوں میں بڑھنے کے مزید راستے تلاش کریں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ بہتر کون ہے اور جو ہمارے مقاصد ہیں کہاں تک ہم نے حاصل کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا۔یہ خیال کسی کو نہیں ہونا چاہئے کہ میں اب بہتر ہو گیا اور نیکیوں میں بڑھ رہا ہوں یا نیکیوں کو حاصل کر لیا ہے۔ہمیں اپنے معیاروں کو اونچا کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309)