خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 666 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 666

خطبات مسرور جلد 14 666 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 اظہار نہیں تو ہمیں اپنے تقویٰ کی فکر کرنی چاہئے۔نامساعد حالات میں اگر ہم زمانے کے امام کی بتائی ہوئی نصائح اور ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تو ہم اس نور سے دُور چلے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اطاعت کی وجہ سے ہمیں ملتا ہے۔پس ہمیں پہلے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اگر ہمارے تقویٰ کے معیار اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کا نور نظر آئے۔اور ہماری دعائیں گدازش کی اُن حدود کو چھورہی ہیں جو ایک صحیح دعا کرنے والے کے لئے چاہئیں اور جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو پھر ہمیں اس بات پر یقین ہو نا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت قریب ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہمارے لئے ملک بھی بنائے گا اور ہمارے لئے زمینیں بھی ہموار کرے گا۔انشاء اللہ۔اور اگر اس سے ہٹ کر ہم کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا چاہیں گے تو کچھ نہیں ملے گا۔ہمارے سامنے ان تنظیموں کی مثالیں ہیں جو اسلام کے نام پر اور بے شمار وسائل کے ساتھ ملینز بلینز ڈالرز اور پاؤنڈ خرچ کر کے اسلامی حکومتیں قائم کرنا چاہتی ہیں لیکن سوائے فساد ظلم بربریت کے انہیں کچھ نہیں ملا۔عارضی قبضے بھی ہوئے تو بھی ہاتھ سے نکل گئے۔اسلام کو بد نام کرنے والے تو یہ کہلاتے ہیں اور دنیا میں اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔اسلام کی خدمت کرنے والے ان کو کوئی نہیں کہتا۔اسلام کی خدمت اور اسلام کی اشاعت اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے اور آپ کی جماعت کے ذریعہ سے مقدر ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کے نقش قدم پر چلیں ورنہ دنیاوی لحاظ سے ہم جتنی کوشش کر لیں نہ ہمارے پاس طاقت ہے نہ وسائل ہیں کہ ہم کچھ حاصل کریں۔لیکن اگر ہم تقویٰ پیدا کر لیں گے ، اگر ہم اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کر لیں گے ، اگر ہم اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچانے والے ہوں گے تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے حوالے سے فرمایا ہے کہ ہمیں وہ نور اور طاقتیں عطا ہوں گی جس کا کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی مقابلہ نہیں کر سکتی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات:14) کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔تو کیا اللہ تعالیٰ غلط کہتا ہے ؟ ایک طرف تو وہ متقی کو معزز کہے اور دوسری طرف دنیا والوں کے سامنے انہیں ذلیل کر کے چھوڑ دے۔یقینا نہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کو دنیاداروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بیان فرمایا ہے مگر کیا ہر موقع پر دشمن خود خائب و خاسر نہیں ہوا۔کیا ہر ایک جو جماعت کی ترقی میں روک ڈالنے کے لئے کھڑا ہوا یا ہر روک جو جماعت کی ترقی میں ڈالی گئی اس سے جماعت مزید پھیلی اور پھولی نہیں ؟ اندرونی حربے بھی مخالفین نے آزمائے اور بیرونی حملے بھی لیکن جماعت ترقی کی شاہراہوں پر قدم مارتے ہوئے آج دو سو نو (209) ممالک میں نفوذ کر چکی ہے۔اگر ایک جگہ سے دباتے ہیں تو دس دوسری جگہوں میں پہلے سے بڑھ کر پھیلنے کا اللہ تعالی سامان اور موقع عطا فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں ایک عام شخص کو جو تقویٰ میں بڑھا ہوا