خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 665 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 665

خطبات مسرور جلد 14 665 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 دکھ اور تکلیف جو وہ پہنچاسکتے تھے انہوں نے پہنچایا ہے لیکن پھر بھی ان کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو ہم اب بھی تیار ہیں۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلا تمیز مذہب و قوم ہر ایک سے نیکی کرو۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 285) دوسرے مسلمان تو بغیر رہنما کے ہیں اور اس وجہ سے ان میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور تقویٰ سے دوری ہو رہی ہے لیکن ہم جو احمدی مسلمان ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے ایک رہنما حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں عطا فرمایا ہے ہمارا ہر عمل اسلامی تعلیم کے مطابق ہونا چاہئے اور ہماری ہر بات تقویٰ پر مبنی ہونی چاہئے۔عارضی اور وقتی جوشوں سے ہمیں ہمیشہ بچنا چاہئے۔اپنے دلوں کو ہمیں ٹٹولنا چاہئے کہ ان میں کتنا تقویٰ ہے۔پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ تقویٰ کیا ہے اور حقیقی تقویٰ کی نشانی کیا ہے اور ایک نیک اور متقی سے کس طرح کے اظہار ہونے چاہئیں، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی۔حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ (الانفال: 30) وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِہ۔(الحدید: (29) یعنی اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیر وں میں فرق رکھ دے گا۔وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے۔یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گا۔" ہر عمل اور قول کو ، ہر کام کو اور ہر بات کو پھر نور عطا ہو گا۔"تمہاری عقل میں بھی نور ہو گا۔اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہو گا۔اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہو گا۔اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گا۔اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں، تمہارے قومی کی راہیں، تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی۔" یعنی کہ اپنے ہاتھ پیر جسم جو بھی تم ہلاؤ گے وہ نور کے حاصل کرنے کے لئے یا نور پھیلانے کے لئے ہی ہوں گے۔تمہاری سوچیں صرف نور پھیلانے والی ہوں گی اور نور سے بھر جائیں گی" اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔" (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 177-178) پس اگر ہماری باتوں میں دوسروں کی طرح عقل سے ہٹ کر صرف جوش ہے تو یہ تقویٰ نہیں ہے۔ہمارے عمل اگر اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں تو یہ تقویٰ نہیں ہے۔ہمارے قول و فعل میں اگر اللہ تعالیٰ کے نور کا