خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد 14 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 حضرت صاحب کو کتابت کی ضرورت ہوتی تو جن سے بھی کتابت کرواتے تھے انہیں قادیان بلایا جاتا۔فرمایا کہ اس زمانے میں تنخواہیں کم ہوتی تھیں۔پچیس روپیہ ماہوار اور روٹی کے لئے الاؤنس ملتا تھا۔ان کی کتابت کرنے والے کی یہ عادت تھی کہ جب کام ختم ہونے کے قریب پہنچتا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آنا اور کہنا حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں مجھے اب گھر جانے کی اجازت دے دیں۔تو آپ نے فرمانا کہ کیوں اتنی جلدی کیا پڑی ہے۔ابھی تو کتابیں چھپ رہی ہیں۔ہمیں کاتبوں کی، کتابت کی ضرورت ہے۔تو انہوں نے کہنا حضور ضرور جانا ہے۔آپ نے فرمانا ابھی تو کچھ کتابت باقی ہے۔کہنا حضور یہاں تو روٹی پکائی پڑتی ہے۔اس پر سارا دن صرف ہو جاتا ہے اور روٹی پکایا کروں یا کتابت کیا کروں۔سارا دن روٹی پکانے میں لگ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمانا اچھا آپ کی روٹی کا میں لنگر سے انتظام کروا دیتا ہوں۔اس طرح ان کو پینتیس روپے تنخواہ بھی مل جاتی اور روٹی بھی مفت مل جاتی۔کچھ دن کے بعد انہوں نے پھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنا کہ حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں، جانے کی اجازت چاہتا ہوں۔حضرت صاحب نے پوچھنا کیوں کیا بات ہے۔کہنا حضور لنگر کی روٹی بھی کوئی روٹی ہے۔دال الگ ہے پانی الگ ہے اور نمک ہے ہی نہیں۔یہاں بھی آجکل بعض دفعہ اس طرح ہی پک جاتی ہے اور کسی وقت اتنی مرچیں ڈال دینی کہ آدمی کو سوکھی روٹی کھانی پڑتی ہے۔یہ روٹی کھا کر کوئی انسان کام نہیں کر سکتا۔آپ نے فرمانا اچھا تو بتاؤ کیا کروں پھر۔تو انہوں نے کہنا اس کے لئے کچھ رقم الگ دے دیا کریں اس مصیبت سے تو خو د روٹی پکانے کی مصیبت اٹھانا بہتر ہے۔میں خود روٹی پکا لیا کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دس روپے اور بڑھا دینے اور کہنا لو اب آپ کو پینتالیس روپے ملا کریں گے۔پچیس روپے سے شروع ہوئے پینتالیس تک آگئے۔پھر انہوں نے دس دن کے بعد آ جانا اور کہنا حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں۔مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔یہاں سارا دن روٹی پکاتا رہتا ہوں کام کیا کروں۔آپ نے فرمانا پھر کیا کریں۔کہنا حضور لنگر خانے میں انتظام کروا دیں۔آپ نے فرمانا اچھا تمہیں پینتالیس روپے ملتے رہیں گے اور کھانا بھی لنگر خانے سے میں لگوا دیتا ہوں۔انہوں نے واپس آکر پھر کام شروع کر دینا۔کچھ دنوں کے بعد پھر آجانا اور کہنا حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں۔جانے کی اجازت چاہتا ہوں۔حضور نے پوچھنا بات کیا ہے۔کہنا حضور لنگر کی روٹی تو مجھ سے نہیں کھائی جاتی۔بھلا یہ بھی کوئی روٹی ہے۔آپ مجھے دس روپے روٹی کے لئے دے دیں میں خود انتظام کر لوں گا۔حضرت صاحب نے دس روپے بڑھا کر پچپن روپے کر دیئے۔چونکہ وہ حضرت صاحب کی طبیعت سے واقف تھے۔انہوں نے اپنے لڑکے کو سکھایا ہوا تھا کہ میں تیرے پیچھے ڈنڈا لے کر بھاگوں گا اور تو شور مچاتے ہوئے حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جانا اور اس طرح کہنا۔