خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 664
خطبات مسرور جلد 14 664 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ : " اگر کوئی گالیاں دے تو ہمارا شکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اور عدالت میں۔اور بائیں ہمہ نوع انسان کی ہمدردی ہمارا حق ہے۔" (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 28) گالیاں سن کے بھی ہم نے ہمدردی ہی کرنی ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ براہ راست تکلیف کے دور سے گزر رہا ہے یا نہیں گزر رہا اس نے صبر اور دعا کے دامن کو پکڑنا ہے اور یہی ایمان کی نشانی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آپ کے ساتھ چلنا کوئی آسان بات نہیں ہے فرماتے ہیں : " پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو وہ مجھ سے الگ ہو جائے۔مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پر خار باد یہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں۔جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے۔نہ مصیبت سے ، نہ لوگوں کے سب وشتم سے ، نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے۔اور جو میرے نہیں وہ عبث دوستی کا دم مارتے ہیں کیونکہ وہ عنقریب الگ کئے جائیں گے اور اُن کا پچھلا حال ان کے پہلے سے بد تر ہو گا۔کیا ہم زلزلوں سے ڈر سکتے ہیں ؟ کیا ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں ابتلاؤں سے خوفناک ہو جائیں گے ؟ کیا ہم اپنے پیارے خدا کی کسی آزمائش سے جدا ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہو سکتے مگر محض اس کے فضل اور رحمت سے۔پس جو جد اہونے والے ہیں جد اہو جائیں اُن کو وداع کا سلام۔لیکن یاد رکھیں کہ بدظنی اور قطع تعلق کے بعد اگر پھر کسی وقت جھکیں تو اس جھکنے کی عند اللہ ایسی عزت نہیں ہوگی جو وفادار لوگ عزت پاتے ہیں۔کیونکہ بدظنی اور غداری کا داغ بہت ہی بڑا داغ ہے۔" (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 23-24) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ ایک مومن کے تقویٰ کا معیار بہت بلند ہوتا ہے اور دشمنوں کی طرف سے تکلیفوں کے باوجو د وہ ہر قسم کے شر کا مقابلہ کرتے ہیں اور دشمنوں کی تکلیفوں کی پرواہ نہیں کرتے۔دوسروں کی طرف سے دکھوں کے باوجود وہ ان کی غلطیاں بخشنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔فساد نہیں پھیلاتے بلکہ امن کے سفیر ہی بنے رہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : "یقینا یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔مومن جس قدر متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایڈا کو پسند نہیں کرتا۔" تقویٰ بڑھتا ہے تو ہمدردی بڑھتی چلی جاتی ہے۔دشمن کے لئے بھی سزا کو اور تکلیف کو پسند نہیں کرتا۔فرمایا کہ " مسلمان کبھی کینہ ور نہیں ہو سکتا۔"حقیقی مسلمان جو ہے وہ کینہ ور نہیں ہو سکتا ہاں " دوسری قومیں ایسی کینہ پرور ہوتی ہیں کہ ان کے دل سے دوسرے کی بات کینے کی کبھی نہیں جاتی اور بدلہ لینے کے لئے ہمیشہ کوشش میں لگے رہتے ہیں۔مگر " ہم خود دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔کوئی