خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 663
خطبات مسرور جلد 14 663 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 گیا ہے کہ قانون بجائے ہماراساتھ دینے کے ظالم کا ساتھ دیتا ہے۔مظلوم احمدی اسیر ان کی ضمانت بھی اس وجہ سے نہیں لی جاتی کہ عدالتیں مولوی کے سامنے بے بس ہیں۔عدالت کے باہر کھڑ ا مولوی عدالت کو پیغام بھیج دیتا ہے کہ اگر ضمانت دی تو پھر تم اپنا حال دیکھ لینا اور پھر اکثر جج خوف سے انگلی تاریخیں دے دیتے ہیں اور فیصلہ نہیں کرتے۔پس نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہیں، نہ قانون انصاف کرنے کو تیار ہے۔ملک میں فساد کرنا ہماری تعلیم نہیں ہے۔پس ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ڈر کو پکڑیں اور دعاؤں کی انتہا کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلا بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں۔مگر مستقل مزاج سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک سر یہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔" اتنا ہی انسان کا دل پچھلے گا، روئے گا، چلائے گا اور جب یہ حالت ہو تو یہ اللہ تعالیٰ خود قبولیت دعا کے لئے سبب پیدا کر رہا ہوتا ہے۔پس فرمایا: " پس کبھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بد ظن نہیں ہونا چاہئے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 434,435) پس یہ ہے ہمارا فرض۔یقینا اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدے سچے ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ دعاؤں کو بھی سنتا ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا میں نے دعا کے وہ معیار حاصل کر لئے ہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔کیا ہم دنیاوی اسباب کی طرف نظر رکھنے کی بجائے اپنی روح کو گدازش کے اس معیار پر لے گئے ہیں جہاں قبولیت دعا ہوتی ہے۔ان معیاروں کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ہم کوشش بھی کریں تو جان نہیں سکتے۔اس لئے کوئی کہہ نہیں سکتا کہ ہاں ہم نے یہ معیار حاصل کر لئے ہیں پھر بھی کچھ حاصل نہیں ہوا، دعا قبول نہیں ہوئی کیونکہ معیار اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔پس ہمارا کام صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دامن کو پکڑے رکھنا ہے۔اگر کوئی بھی ہم میں سے بے صبری دکھائے گا تو اپنا نقصان کرے گا۔جن ملکوں میں جو تکلیف میں ہیں، خاص طور پر پاکستان میں ان کی اکثریت تو صبر ہی کر رہی ہے اور دعائیں بھی کر رہی ہے اور ایمان بھی مضبوط ہیں اور جو دور بیٹھے ہیں اور ظاہری تکلیفوں سے بچے ہوئے ہیں وہی زیادہ تر باتیں بھی کرتے ہیں۔پس ان کو بھی چاہئے کہ اگر اپنے بھائیوں سے ہمدردی ہے تو اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑیں۔