خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 662 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 662

خطبات مسرور جلد 14 662 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 کے پیار کو حاصل کرنا ہے تو دشمن کے حملوں اور زیادتیوں کا جواب اس طرح نہیں دینا بلکہ صبر اور دعا سے کام لینا ہے تبھی ہم کامیابیوں کو دیکھیں گے۔چنانچہ ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔پہلے آپ نے ایک فارسی کا شعر فرمایا کہ عزیزاں بے خلوص وصدق نکشایند را ہے را مصفا قطره باید که تا گوہر شود پیدا کہ اے عزیز و ابغیر خلوص اور صدق کے مقام حاصل نہیں ہو تا۔صاف اور شفاف قطرہ بنو کہ وہی صاف اور شفاف قطرہ ہے جس سے گوہر اور موتی پید اہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : "اے میرے دوستو ! جو میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو خدا ہمیں اور تمہیں ان باتوں کی توفیق دے جن سے وہ راضی ہو جائے۔آج تم تھوڑے ہو اور تحقیر کی نظر سے دیکھے گئے ہو اور ایک ابتلا کا وقت تم پر ہے اسی سنت اللہ کے موافق جو قدیم سے جاری ہے۔ہر یک طرف سے کوشش ہو گی کہ تم ٹھو کر کھاؤ اور تم ہر طرح سے ستائے جاؤ گے اور طرح طرح کی باتیں تمہیں سننی پڑیں گی اور ہر ایک جو تمہیں زبان یا ہاتھ سے دکھ دے گا وہ خیال کرے گا کہ اسلام کی حمایت کر رہا ہے۔" اکثر ہمارے مخالفین عوام الناس جو ہیں کم علمی کی وجہ سے مخالفت کرتے ہیں۔مولویوں نے ان کے دماغوں میں یہ ڈال دیا ہے کہ احمدیوں کی جو مخالفت ہے یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہے۔آپ نے فرمایا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی حمایت کر رہے ہیں فرماتے ہیں کہ : " اور کچھ آسمانی ابتلا بھی تم پر آئیں گے تا تم ہر طرح سے آزمائے جاؤ۔سو تم اس وقت سن رکھو کہ تمہارے فتح مند اور غالب ہو جانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنے خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرو۔یا گالی کے مقابل پر گالی دو۔کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے اور تم میں صرف باتیں ہی باتیں ہوں گی جن سے خدا تعالیٰ نفرت کرتا ہے اور کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے۔سو تم ایسانہ کرو کہ اپنے پر دو لعنتیں جمع کر لو۔ایک خلقت کی اور دوسری خدا کی بھی۔" (ازالہ اوہام حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 546-547) پس ہم نے تو اس تعلیم پر عمل کرنا ہے اور اس ہدایت پر چلنا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں دی ہے۔ہم نے گالیوں کا جواب نہ گالی سے دینا ہے ، نہ فساد کا جواب فساد پیدا کر کے دینا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر دینا ہے۔اور پھر پاکستان اور مسلمان ممالک میں تو اگر جائز طور پر بھی اپنا د فاع کریں تو اکثر یہی دیکھا