خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 661
خطبات مسرور جلد 14 661 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2016 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا استہزاء کرتے ہیں یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں کہ انبیاء کے ساتھ یہی کچھ ہوتا ہے۔جھوٹ بھی ان پہ بولا جاتا ہے۔ان کا استہزاء بھی کیا جاتا ہے، مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔پس یہ مخالفت اور ہمیں تکالیف دینا ایک حقیقی ہے، ایمان پر قائم احمدی کے ایمان میں زیادتی کا باعث بنتا ہے۔لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اب ہم احمدیوں پر ظلم کی انتہا ہو گئی ہے اور اب ہمیں سختی کا جواب سختی سے دینا چاہئے۔کتنا عرصہ ہم تکلیفیں برداشت کریں گے۔یہ چاہے ایک دو یا چند ایک ہوں لیکن بعض ایسے لوگ نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مطالبات منوانے کے لئے اور اپنی آزادی کے لئے دنیاوی طریق اختیار کرنے چاہئیں۔یہ جہالت کی باتیں ہیں اور انتہائی غلط سوچ ہے۔یا تو ایسے لوگ جذبات میں آکر یہ بھول گئے ہیں کہ ہماری بنیادی تعلیم کیا ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔آپ نے اپنی جماعت کو ان سختیوں اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے کیا نصائح فرمائی ہیں۔یا پھر ایسے لوگ ہمدرد بن کر جماعت میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔جوں جوں جماعت بڑھتی ہے مخالفین مختلف ذریعوں سے حملے کرتے ہیں۔مختلف طریقے آزمائے جاتے ہیں۔ہو سکتا ہے یہ بھی ایک طریقہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فتح و نصرت اور ترقی کے وعدے کئے ہیں لیکن سختی کا جواب سختی سے دینے سے نہیں بلکہ پیار اور محبت اور دعاؤں کی طرف توجہ کرنے سے اور یہی بات آپ علیہ السلام نے ہمیں بار بار سمجھائی ہے کہ جماعت کی ترقی اور دشمن کی تباہی دعاؤں سے ہونی ہے۔انشاء اللہ۔اس لئے اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ڈھالتے ہوئے اپنے اندر تقویٰ پیدا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکو۔مسیح موعود نے تو امن کا شہزادہ بن کر آنا تھا اور آیا۔آپ نے تو اپنے ماننے والوں کو پہلے دن سے ہی کہہ دیا تھا کہ میرے راستے آسان راستے نہیں ہیں۔ان میں بڑی سختیاں ہیں۔یہاں جذبات کو بھی مار نا ہو گا اور جانی ومالی نقصان کو بھی برداشت کرنا ہو گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت اس راہ میں ہر قسم کی قربانی کرتے چلے جارہے ہیں اور جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبوں میں ذکر بھی کیا تھا کہ مجھے لکھتے ہیں کہ دشمن کے حملوں سے ہم ڈرتے نہیں۔ہمارے ایمان پہلے سے مضبوط ہو رہے ہیں۔لیکن اگر کوئی ایک آدھ شخص بھی ایسی بات کرے جو جماعتی تعلیم کے خلاف ہے تو فتنہ پیدا کرنے والی بات ہے اور دشمن کو اپنے خلاف مزید مخالفت کا موقع دینا ہے۔خاص طور پر جب کہ ایسی باتیں واٹس ایپ پر یا ٹوئٹر پر یا فیس بک پر یا کسی اور ذریعہ سے کی جائیں۔پس ہم تو اس تعلیم پر عمل کرتے آئے ہیں کہ مخالفین کے ظلم اور بربریت کے مقابلہ پر ہم نے ظلم و بربریت نہیں دکھانی۔ویسے اظہار ہم نے نہیں کرنے اور نہ ہی حکومتوں سے ہم نے ہتھیاروں سے مقابلہ کرنا ہے۔ہمارا مقابلہ دعاؤں کے ہتھیار سے ہے جیسا کہ میں نے کہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی مدد اور اس