خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 659 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 659

خطبات مسرور جلد 14 659 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 آں کجا روئے کہ دارد پیچو رویش آب و تاب واں کجا با نے کہ مے دارد بہارِ دلبرم" (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 597-598 حاشیہ ) کہ میرے محبوب جیسا کوئی نہیں ہے۔اس کے ہاں چاند اور سورج کی بھی کوئی قیمت نہیں۔ایسا چہرہ کہاں کہ اس جیسی آب و تاب رکھتا ہو اور ایسا باغ کہاں جو میرے محبوب جیسی بہار رکھتا ہو۔اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ درود کس غرض سے پڑھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔درود شریف اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم" پر نازل کرے اور اس کو تمام عالم کے لئے سر چشمہ بر کتوں کا بناوے اور اس کی بزرگی اور اس کی شان و شوکت اِس عالم اور اس عالم میں ظاہر کرے۔یہ دعا حضور تام سے ہونی چاہئے جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے۔" اسی طرح درود شریف پڑھتے ہوئے دعا ہونی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے لئے دعا ہونی چاہئے جس طرح اپنی کسی مشکل میں گرفتار ہو کر انسان دعا کرتا ہے " بلکہ اس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے۔" فرمایا کہ اس سے کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے مجھے کو یہ ثواب ہو گا یا یہ درجہ ملے گا بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کاملہ الہیہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم " پر نازل ہوں اور اُس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے۔" (مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 523۔ایڈیشن 2008ء) پس دشمن ہمیں جو چاہے کہتا رہے۔ہم پر جو بھی الزام لگاتے ہیں لگاتے رہیں۔ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے اور ہمیں سب سے بڑھ کر آپ کے خاتم النبیین ہونے کا ادراک ہے اور یہ سب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم دشمن کے ہر حملے اور ہر ظلم کے بعد پہلے سے بڑھ کر اپنے ایمان میں بڑھتے چلے جانے والے ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پہلے سے بڑھ کر بھیجنے والے ہوں تاکہ مسلمانوں کو بھی آپ کے اس مقام کا صحیح ادراک حاصل ہو اور یہ بھٹکے ہوئے مسلمان بھی صحیح رستے پر آجائیں اور دنیا میں بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم پھیلے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 06 جنوری 2017ء تا12/ جنوری 2017ء جلد 24 شمارہ 1 0 صفحہ 05 تا08)