خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 658 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 658

خطبات مسرور جلد 14 658 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 کرنے میں کچھ حصہ لے۔بڑی عبادت یہی ہے کہ اس فتنہ کے دُور کرنے میں ہر ایک مسلمان کچھ نہ کچھ حصہ لے۔اس وقت جو بدیاں اور گستاخیاں پھیلی ہوئی ہیں چاہئے کہ اپنی تقریر اور علم کے ذریعہ سے اور ہر ایک قوت کے ساتھ جو اس کو دی گئی ہے مخلصانہ کوشش کے ساتھ ان باتوں کو دنیا سے اٹھاوے۔اگر اسی دنیا میں کسی کو آرام اور لذت مل گئی تو کیا فائدہ۔اگر دنیا میں بھی درجہ پالیا تو کیا حاصل۔عقبی کا ثواب لو جس کی انتہا نہیں۔ہر ایک مسلمان کو خدا تعالیٰ کی توحید و تفرید کے لئے ایسا جوش ہونا چاہئے جیسا کہ خود اللہ کو اپنی توحید کا جوش ہے۔غور کرو کہ دنیا میں اس طرح کا مظلوم کہاں ملے گا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کوئی گند اور گالی اور دشنام نہیں جو آپ کی طرف نہ پھینکی گئی ہو۔کیا یہ وقت ہے کہ مسلمان خاموش ہو کر بیٹھ رہیں ؟ اگر اس وقت کوئی شخص کھڑا نہیں ہوتا اور حق کی گواہی دے کر جھوٹے کے منہ کو بند نہیں کرتا اور جائز رکھتا ہے کہ کافر لوگ بے حیائی سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتہام لگاتے جائیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے جائیں تو یاد رکھو کہ وہ بیشک بڑی باز پرس کے نیچے ہے۔چاہئے کہ جو کچھ علم اور واقفیت حاصل ہے وہ اس راہ میں خرچ کرو۔"تمہارا اپنا دین کا جتنا علم ہے اس راہ میں خرچ کرو اور لوگوں کو اس مصیبت سے بچاؤ۔حدیث شریف سے ثابت ہے کہ اگر تم دجال کو نہ مارو تب بھی وہ تو مر ہی جائے گا۔مثل مشہور ہے۔ہر کمالِ راز والے۔تیرھویں صدی سے یہ آفتیں شروع ہوئیں اور اب وقت قریب ہے کہ اس کا خاتمہ ہو جائے۔اس لئے ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے پوری کوشش کرے۔نور اور روشنی ( ملفوظات جلد اول صفحہ 394-395) لوگوں کو دکھائے۔" اور اس نور اور روشنی کو دکھانے کے لئے اور پھیلانے کے لئے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم آپ کی بیعت میں آئے ہیں اب اس مشن کو آگے چلانا بھی ہمارا کام ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام براہین احمدیہ میں اپنے ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" جو الہام ہے وہ یہ ہے صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ وُلْدِ أَدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔اور درود بھیج محمد اور آل محمد پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔" آپ فرماتے ہیں کہ " یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اور تفضلات اور عنایات اسی کے طفیل سے ہیں اور اسی سے محبت کرنے کا یہ صلہ ہے۔سبحان اللہ اس سرور کائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا تقرب ہے کہ اُس کا محب خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کا خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے۔چ محبوبے نماند ہمیچو یار دلبرم و را نیست قدری در دیار دلبرم