خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 657
خطبات مسرور جلد 14 آپ فرماتے ہیں: " 657 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ جیسے تمام کمالات متفرقہ جو انبیاء میں تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں جمع کر دیئے۔اسی طرح تمام خوبیاں اور کمالات جو متفرق کتابوں میں تھے وہ قرآن شریف میں جمع کر دیئے اور ایسا ہی جس قدر کمالات تمام امتوں میں تھے وہ اس امت میں جمع کر دیئے۔پس خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم ان کمالات کو پالیں اور یہ بات بھی بھولنی نہیں چاہئے کہ جیسے وہ عظیم الشان کمالات ہم کو دینا چاہتا ہے اسی کے موافق اس نے ہمیں قویٰ بھی عطا کئے ہیں کیونکہ اگر اس کے موافق قوی نہ دیئے جاتے تو پھر ہم ان کمالات کو کسی صورت اور حالت میں پاہی نہیں سکتے تھے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص ایک گروہ کی دعوت کرے تو ضرور ہے کہ اس گروہ کی تعداد کے موافق کھانا تیار کرے اور اسی کے موافق ایک مکان " یعنی دعوت کی جگہ بھی ہو۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ دعوت تو ایک ہزار آدمی کی کرے اور ان کے بٹھانے کے واسطے ایک چھوٹی سی کٹیا بنا دے"۔" دعوت کرے ہزار آدمی کی اور جگہ بالکل تھوڑی سی رکھے۔" نہیں بلکہ وہ اس تعداد کا پورا لحاظ رکھے گا۔" ان کے بیٹھنے کی جگہ بھی اتنی ہی رکھنی پڑے گی۔" اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی کتاب بھی ایک دعوت اور ضیافت ہے۔" قرآن کریم ایک دعوت اور ضیافت ہے " جس کے لئے کل دنیا کو بلایا گیا ہے۔" یہ دعوت، یہ شریعت تمام دنیا کے لئے ہے۔" اس دعوت کے لئے خدا تعالیٰ نے جو مکان تیار کیا ہے وہ انسانی قوی ہیں۔" انسان میں جو طاقتیں وہ بنائی گئی ہیں وہ بیٹھنے کے لئے مکان ہے اس لئے ہر انسان کے لئے یہ کہنا کہ ہم قرآن کریم کے فلاں حکم پر عمل نہیں کر سکتے یہ بڑا مشکل ہے یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو وہ طاقتیں دی ہیں کہ ان پر عمل ہو سکے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " جو اُن لوگوں کو دیئے گئے ہیں جو اس امت میں ہیں۔" مسلمانوں میں ان حقیقی مسلمانوں میں جو خالص ہو کر اپنے ایمان پر قائم ہیں ان کو یہ قولی دیئے گئے ہیں۔پھر فرمایا کہ " قویٰ کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔" آپ فرماتے ہیں کہ "آب اگر بیل، کتے یا کسی اور جانور کے سامنے قرآن کی تعلیمات کو پیش کریں تو وہ نہیں سمجھ سکتے۔اس لئے کہ ان میں وہ قویٰ نہیں ہیں کہ جو قرآن کریم کی تعلیمات کو برداشت کر سکیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ قومی دیئے ہیں کہ ہم ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔" پس اگر انسان اپنے آپ کو یہ کہہ کر جانور نہ سمجھے کہ ہمیں قویٰ نہیں، ہمیں طاقتیں نہیں کہ قرآن کریم پر عمل کر سکیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی مسلمان کو وہ طاقتیں دی ہیں اور ان کو نکھار نا پھر انسان کا کام ہے تاکہ کے حکموں پر مل کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 340-341) قرآن کریم مسلمانوں کے رویے کیا ہیں ؟ اور آپ کس طرح اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھتے ہوئے نصیحت فرماتے ہیں۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اس زمانے میں سب سے بڑی عبادت کیا ہے ؟ فرمایا کہ: ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اس زمانہ کے درمیان جو فتنہ اسلام پر پڑا ہوا ہے اس کے دُور