خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 656 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 656

خطبات مسرور جلد 14 656 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 آپ صلی اللہ علیہ وسلم " روح القدس کی تائید اور روشنی سے موید اور منور ہیں جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے۔یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم " کے انوار و برکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابد الآباد تک اس کا نمونہ اور ظل نظر آتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہو رہا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم " ہی کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم " ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔" فرمایا میں سچ کہتا ہوں کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خد اتعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ نفس پر ملتے ہیں جبتک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ " قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ " ( ملفوظات جلد اول صفحہ 203-204) اگر اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا کہ آپ کی اتباع کرو تو پھر اللہ کی محبت ملے گی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید نازل کرنے کی غرض بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : "میں نے کئی دفعہ اس سے پہلے بھی بیان کیا ہے اور اب بھی اس کا بیان کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہے اس لئے میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو انبیاء کو بھیجتا ہے اور آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دنیا کی ہدایت کے واسطے بھیجا اور قرآن مجید کو نازل فرمایا تو اس کی غرض کیا تھی ؟ ہر شخص جو کام کرتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے۔ایسا خیال کرنا کہ قرآن شریف نازل کرنے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی کوئی غرض اور مقصد نہیں ہے کمال درجہ کی گستاخی اور بے ادبی ہے کیونکہ اس میں (معاذ اللہ)، اللہ تعالیٰ کی طرف ایک فعل عبث کو منسوب کیا جائے گا۔" پھر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا فضول بات ہو گی " حالانکہ اس کی ذات پاک ہے (سبحانہ و تعالیٰ شانہ)۔پس یاد رکھو کہ کتاب مجید کے بھیجنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تا دنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے جیسے فرمایا۔وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (الانبیاء: 108) اور ایسا ہی قرآن مجید کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقره: 3)۔یہ ایسی عظیم الشان اغراض ہیں کہ ان کی نظیر نہیں پائی جاسکتی۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 340) پھر قرآن کریم کی بلند شان ہونے اور اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ قرآن مجید میں متفرق کتابوں کے تمام کمالات جمع ہیں اور صرف بطور قصہ کے نہیں بلکہ ایک مومن کے لئے عمل کرنے کے لئے ہیں