خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 655 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 655

خطبات مسرور جلد 14 655 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو بیان فرماتے ہوئے کہ زندہ رسول ابد الآباد کے لئے صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: کیا بنی اسرائیل کے بقیہ یہود یا حضرت مسیح علیہ السلام کو خداوند خداوند پکارنے والے عیسائیوں میں کوئی ہے جو ان نشانات میں میر امقابلہ کرے۔میں پکار کر کہتا ہوں کہ کوئی بھی نہیں۔ایک بھی نہیں۔پھر یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداری معجزہ نمائی کی قوت کا ثبوت ہے۔کیونکہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ نبی متبوع کے معجزات ہی وہ معجزات کہلاتے ہیں جو اس کے کسی متبع کے ہاتھ پر سر زد ہوں۔پس جو نشانات خوارق عادات مجھے دیئے گئے ہیں، جو پیشگوئیوں کا عظیم الشان نشان مجھے عطا ہوا ہے یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ معجزات ہیں۔اور کسی دوسرے نبی کے متبع کو یہ آج فخر نہیں ہے کہ وہ اس طرح پر دعوت کر کے ظاہر کر دے کہ وہ بھی اپنے اندر اپنے ہی متبوع کی قدسی قوت کی وجہ سے خوارق دکھا سکتا ہے۔یہ فخر صرف اسلام کو ہے اور اسی سے معلوم ہو تا ہے کہ زندہ رسول ابد الآباد کے لئے صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہو سکتے ہیں جن کے انفاس طیبہ اور قوت قدسیہ کے طفیل سے ہر زمانہ میں ایک مردِ خداخدانمائی کا ثبوت دیتارہتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 413-414) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ، آپ کے عجز و انکسار اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے آپ کی محبت میں سرشار ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "حدیث میں آیا ہے کہ اگر فضل نہ ہو تا تو نجات نہ ہوتی۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کی وجہ سے نجات ہوتی ہے۔ایسا ہی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ سے سوال کیا " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ سوال کیا کہ یا حضرت کیا آپ کا بھی یہی حال ہے۔" یہ جو آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو نجات نہیں ہوتی تو آپ کا بھی یہی حال ہے ؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم " نے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ہاں۔" آپ فرماتے ہیں " یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم " کی کمال عبودیت کا اظہار تھا جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو جذب کر رہا تھا۔" پھر آپ بیان فرماتے ہیں کہ "ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے اور متعد د مر تبہ آزمایا ہے بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذتل کی حالت انتہا کو پہنچی ہے اور ہماری روح اس عبودیت اور فروتنی میں بہ نکلتی ہے اور آستانہ حضرت واہب العطایا پر پہنچ جاتی ہے تو ایک روشنی اور نور اوپر سے اترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک نالی کے ذریعہ سے مصفی پانی دوسری نالی میں پہنچتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدر