خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 43

خطبات مسرور جلد 14 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 کو بھی یہ دن دیکھنا نصیب ہو کہ ان کی وجہ سے ملکوں کے ملک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جن کتب کا ذکر ہوا۔ابتداء میں یہ کتب کس طرح شائع کی جاتی تھیں اس بارے میں کچھ بیان کر دوں۔ابتدائی زمانہ تھا جب کتب تحریر فرمارہے تھے تو وسائل بہت کم تھے اس وقت کی تصویر کشی کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاتبوں کے نخرے برداشت کرتے تھے اور کس طرح معیار اچھار کھنے کی کوشش فرماتے تھے۔اس بارے میں آپ حضرت میر مہدی حسن صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں۔پہلے یہ احمدی نہیں تھے۔جس زمانے کا ذکر ہے اس زمانے میں یہ احمدی نہیں تھے کہ میر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں چھپوائی کے انچارج تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کسی کتاب کی کاپی چھپتی تو وہ بڑے غور سے پڑھتے تھے۔یہ بعد کا زمانہ ہے مثلاً اگر کہیں فل سٹاپ بھی غلط جگہ لگا ہوتا تو اس کاپی کو تلف کر دیتے اور نئی لکھواتے۔اس طرح کام کرنے والے دو چار دن تک جب تک کہ نئی کاپی تیار نہ ہوتی یو نہی بیٹھے رہتے۔اس زمانے کا پر یس کا بھی اور لکھنے کا انتظام بھی اور طرح کا تھا۔آجکل کی طرح نہیں کہ کمپیوٹر پر بیٹھے اور فوراً پر نٹنگ کر دی۔اس کے باوجود بیشمار غلطیاں آجکل بھی ہوتی ہیں۔بہر حال کہتے ہیں پھر جب وہ تیار ہوتی تو پھر وہ دیکھتے اور اگر کوئی غلطی دیکھتے تو پھر اسے تلف کر دیتے اور اس وقت تک کتاب چھپنے نہ دیتے جب تک کہ انہیں یقین نہ آتا کہ اب اس میں کوئی غلطی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دریافت فرماتے کہ کتاب چھپنے میں اتنی دیر کیوں لگی تو وہ کہتے کہ حضور ابھی پروف میں بڑی غلطیاں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی صاف اور اچھی چیز چاہتے تھے۔اس لئے آپ کبھی بھی اس بات کا خیال نہ فرماتے کہ مزدور اور کام کرنے والے یونہی بیٹھے ہیں اور مفت کی تنخواہیں کھا رہے ہیں۔اس بات کی فکر نہیں تھی کہ جو لکھنے والے ہیں یا دوسرے کام کرنے والے وہ یونہی بیٹھے ہیں بلکہ کیونکہ اچھی کوالٹی چاہئے تھی اس لئے آپ کہتے تھے ٹھیک ہے معیار اچھا ہو نا چاہئے اگر یہ چند دن فارغ بیٹھ کر تنخواہ بھی لے لیں تو کوئی حرج نہیں۔بلکہ آپ کی بھی یہی خواہش ہوتی تھی کہ لوگوں کے سامنے اچھی چیز پیش ہو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بھی عادت تھی کہ کتاب میں ذرا نقص ہو تا تو اس کو پھاڑ دینا اور فرمانا دوبارہ لکھو۔کاتب نے پھر کتاب لکھنی اور اگر کہیں ذرا بھی نقص ہو تا تو اسے پھاڑ دینا اور جب تک اچھی کتابت نہ ہوتی اس وقت تک مضمون چھپنے کے لئے نہ دینا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن سے کتابت کرواتے تھے وہ شروع میں تو احمدی نہیں تھے لیکن بعد میں احمدی ہو گئے۔ان کا لڑکا بھی احمدی ہو گیا۔جو کتابت کرنے والی تھے ان میں یہ خوبی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قدر پہچانتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کی قدر پہچانتے تھے۔باوجو د غیر احمدی ہونے کے جب بھی