خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 654 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 654

خطبات مسرور جلد 14 654 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 پھر اس الزام کو رڈ کرتے ہوئے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے، آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " یہ بھی یادر کھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ہم جس قوت یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہو تا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے ؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 342) پس جو ہمیں ختم نبوت کا منکر سمجھتے ہیں وہ خود اندھے ہیں اور ان کے دل کھو کھلے ہیں۔سوائے نعرہ بازی اور فتنہ و فساد کے اور توڑ پھوڑ کے ان کے پاس اور ہے ہی کیا۔کیا اسلام کا جو پیغام اس وقت جماعت احمد یہ دنیا میں پھیلا رہی ہے وہ اس بات کی کافی دلیل نہیں ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لئے مانگی گئی دعاؤں سے مسیح موعود کی جماعت ہی حصہ لے رہی ہے۔پھر ختم نبوت کی حقیقت بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ : " ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم " دیا جو خاتم المومنين، خاتم العارفین اور خاتم النبيين ہے۔اور اسی طرح پر وہ کتاب اُس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم " پر نبوت ختم ہو گئی تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ایسا ختم قابل فخر نہیں ہو تا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم " پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک نبیوں کو دیئے گئے تھے۔کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی۔وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دیئے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپ خاتم النبیین ٹھہرے۔اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات ، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھہرا۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 341-342)