خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 653
خطبات مسرور جلد 14 653 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 مبارکباد دیتے ہیں۔اگر شیعہ و سنی اور احمدی اسی طرح سال بھر میں دو چار مرتبہ ایک جگہ جمع ہو جایا کریں گے تو پھر کوئی قوت اسلام کا مقابلہ اس ملک میں نہیں کر سکتی۔" ( تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 36-37) پھر ایک اخبار 'سلطان کلکتہ سے شائع ہوتا ہے۔یہ بنگالی اخبار ہے۔اس نے 21/ جون میں لکھا کہ " جماعت احمدیہ نے 17 جون کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرنے کے لئے ہندوستان بھر میں جلسے منعقد کئے۔ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تقریباً سب جگہ کامیاب جلسے ہوئے اور یہ تو ایک حقیقت ہے کہ اس نواح میں احمدیوں کو ایسی عظیم الشان کامیابی ہوئی ہے کہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی اور اس سے معلوم ہو تا ہے کہ جماعت احمد یہ روز بروز طاقتور ہو رہی ہے اور لوگوں کے دلوں میں جگہ حاصل کر رہی ہے۔ہم خود بھی ان کی طاقت کا اعتراف کرتے اور ان کی کامیابی کے متمنی ہیں۔" ( تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 37-38) تو یہ اس وقت اخباروں نے بھی لکھا اور غیروں نے ساتھ بھی دیا۔اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا سوال تھا۔جماعت احمدیہ کو کسی سے خراج تحسین لینے کی ضرورت نہیں۔یہ کو شش تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس لئے کی تھی کہ اسلام دشمنوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جنسی ٹھٹھا کرنے والوں کو یہ پتا چلے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا تھا اور یہ کہ اس بات پر مسلمان ایک ہیں۔قادیان میں بعض ہندوؤں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر تقریریں کیں۔الفضل نے خاص طور پر اس وقت خاتم النبیین سنمبر شائع کیا۔اور اس کے بعد سے جماعت احمدیہ مسلمہ تو باقاعدہ سیرت النبی کے جلسے منعقد کرتی ہے۔آپ نے جو چار پانچ نکات دیئے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ بجائے صرف 12 ربیع الاول کے ، سارا سال مختلف وقتوں میں سیرت کے جلسے ہونے چاہئیں۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 31) بہر حال یہ جماعت احمدیہ کی تاریخ ہے اور جلسے منعقد ہوتے ہیں اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 33) دوسو سے زائد ممالک میں جہاں جماعت احمدیہ قائم ہو چکی ہے یہ جلسے منعقد کئے جاتے ہیں اور انشاء اللہ احمد ی ہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے جو مقام ختم نبوت کا صحیح ادراک رکھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح مقام سے دنیا کو روشناس کروار ہے ہیں۔یہ اس لئے کہ ہمیں اس زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام نے بتایا کہ اگر خدا تعالیٰ تک پہنچنا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو پکڑو کہ آپ ہی اب راہِ نجات ہیں۔کوئی اور ذریعہ نہیں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا۔"وہ ہے میں چیز کیا ہوں۔" ( قادیان کے آریہ اور ہم۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 456) آپ نے کبھی اپنے آپ کو بڑا نہیں ثابت کیا۔ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑائی ہی بیان فرمائی۔