خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 652 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 652

خطبات مسرور جلد 14 652 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 دعویٰ کیا اور آپ نے یہی فرمایا کہ میں توحید کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کرنے کے لئے آیا ہوں۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ میرے ذریعہ سے ہونی ہے۔اور پھر خلافت ثانیہ میں اُس وقت جب ایک وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف غیر مسلمانوں نے اخباروں اور کتابوں میں بیہودہ گوئیاں کیں، انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے لکھنا شروع کیا تو اس وقت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بڑے پیمانے پر ہندوستان میں سیرت کانفرنسیں منعقد کیں اور احمدیوں اور غیر احمدیوں، سب مسلمانوں کو کہا کہ اب یہ وقت ہے کہ اختلافات چھوڑ کر اکٹھے ہو کر جمع ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اسلام کا دفاع کرو اور وسیع پیمانے پر اس کا آپ نے ان کا نفرنسوں کا آغاز فرمایا بلکہ جو غیر مسلم شرفاء تھے آپ نے ان غیر مسلموں کو بھی دعوت دی۔مسلمانوں کے توایمان کا حصہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان لائیں اور آپ کی عزت و ناموس کی حفاظت کریں لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات تو تمام دنیا پر ہیں۔آپ تو رحمت للعالمین ہیں اس لئے جو غیر مسلم شرفاء ہیں وہ بھی آپ کی سیرت بیان کریں۔چنانچہ بہت سے غیر مسلم پڑھے لکھے لوگوں نے جن میں ہندو بھی شامل تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اپنے مضامین پڑھے۔1928ء میں جب قادیان میں پہلا جلسہ ہو ا تو اس میں ہندو شعراء کی دو نعتیں بھی پڑھی گئیں۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ (43) تمام ہندوستان میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تحریک پر سیرت کانفرنسیں منعقد ہو ئیں جیسا کہ میں نے کہا اور باوجو د نظریاتی اور عقیدے کے اختلاف کے اس وقت کے غیر احمدیوں نے علماء سمیت، (بعضوں نے اس مہم کی مخالفت بھی کی تھی لیکن ان میں بہت سارے ایسے تھے جنہوں نے اس منصوبے کو اور اس کوشش کو کامیاب بنایا۔چنانچہ اخباروں نے اس پر تبصرے بھی کئے اور خبریں بھی شائع ہوئیں۔ایک اخبار " مشرق " گورکھ پور ہے۔21 جون 1928ء میں اس نے لکھا کہ " ہندوستان میں یہ تاریخ ہمیشہ زندہ رہے گی۔اس لئے کہ اس تاریخ میں اعلیٰ حضرت آقائے دو جہان سردار کون و مکاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر کسی نہ کسی پیرائے میں مسلمانوں کے ہر فرقے نے کیا اور ہر شہر میں یہ کوشش کی گئی کہ اول درجے پر ہمارا شہر رہے۔جن اصحاب نے اس موقع پر تفرقہ اور فتنہ پر دازی کے لئے پوسٹر لکھے۔کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے مخالفت کرنی ہی کرنی ہوتی ہے" اور تقریریں لکھ کر ہمارے پاس بھیجیں۔" یعنی اخبار کے پاس " وہ بہت احمق ہیں۔" اخبار لکھنے والا کہتا ہے وہ بہت احمق ہیں " جو ہمارے عقیدے سے واقف نہیں۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ الله [] پر ایمان رکھے وہ ناجی ہے۔" آگے لکھتا ہے کہ "بہر حال 17 جون کو جلسہ کی کامیابی پر ہم امام جماعت احمد یہ جناب مرزا محمود احمد کو