خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 651
خطبات مسرور جلد 14 651 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2016 حکومت پاکستان کو یہ بڑا فخر ہے کہ انہوں نے اُس زمانے میں جب قانون پاس ہو اتھا اور اب اس کو 125 سال ہو گئے ، توے سالہ مسئلہ ، یہ ختم نبوت کا مسئلہ تھا اس کو حل کر دیا اور اس بات پر پاکستان میں علماء بھی اور بعض حکومتی کارندے بھی لوگوں کے جذبات کو ابھارتے رہتے ہیں۔تو یہ تو ان کی وہ حالت ہے جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔عامتہ المسلمین بجائے اپنے ان علماء کی باتیں سننے کے یہ دیکھیں اور ان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ زمانہ اس بات کو نہیں چاہتا کہ ایک مصلح آئے جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی اور مسلمانوں کو امت واحدہ بنائے۔یقینا یہ زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا بھی کر دیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی مکمل اور پوری ہو چکی ہے۔لیکن ان علماء نے نہیں ماننا کیو نکہ ان کے منبر اور ان کی جو روٹی لگی ہوئی ہے وہ ان کے ہاتھ سے جاتی ہے۔یہ مسلمانوں کو بھی بھڑکاتے رہیں گے اور پاکستان میں جیسا کہ میں نے کہا کہ ملکی قانون بھی ان کو کھلی چھٹی دیتا ہے اس لئے و قتافوقتا احمدیوں کے خلاف اس الزام کی وجہ سے جلسے جلوس اور گالم گلوچ بھی کرتے رہتے ہیں۔لیکن یہ بد اخلاق اور یہ رویے ان مولویوں کو ہی مبارک ہوں۔یہ تو یہ کر سکتے ہیں لیکن احمدی ایسی بیہودگیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔12 ربیع الاول کے حوالے سے ناموس رسالت اور ختم نبوت کے نام پر پاکستان میں چند دن پہلے ( یہ چار دن پہلے تھا) دوالمیال میں اوباشوں اور مولویوں نے جمع ہو کر جلوس نکالا۔ہماری مسجد پر حملہ کیا۔مسجد کے اندر احمدی تھے۔احمدیوں نے اندر آنے نہیں دیا۔دروازے بند تھے۔لیکن پولیس کے کہنے پر جب احمدیوں نے دروازے کھولے اور پولیس کی اس ضمانت پر دروازے کھولے کہ وہ مسجد کی حفاظت کریں گے اُس وقت یہ بلوائی مسجد میں داخل ہو گئے اور پولیس ایک طرف ہو گئی۔اور پھر انہوں نے مسجد کا سامان باہر نکال کر جلایا اور یوں انہوں نے اپنے زعم میں اسلام کی بہت بڑی خدمت کی۔بہر حال ہم نے قانون سے نہیں لڑنا نہ ہم لڑتے ہیں جہاں تک مادی چیزوں کا سوال ہے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ٹھیک ہے نقصان کیا، کر دیں۔ہاں اپنے عقیدے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان لانے کا اور توحید کو اپنے دلوں میں گاڑنے کا جہاں تک سوال ہے اس کے لئے ہم اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں لیکن اس سے ہٹنے والے نہیں اور ہمیشہ ہم یہی کہتے آئے ہیں اور اس کی خاطر قربانیاں بھی دیتے آئے ہیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللہ کے اعلان سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔یہ لوگ تو رسمی میلاد مناتے ہیں، رسما اکٹھے ہوتے ہیں۔تقریریں کیں اور ان کی جو تقریریں ہیں وہ بھی اکثریت پاکستان میں سوائے احمدیوں کو گالیاں دینے کے اور کچھ نہیں ہو تیں۔یہ مغلطات بک کر وقتی طور پر ایک جوش نکال لیتے ہیں۔اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کر لی۔لیکن جماعت احمدیہ نے اصل خدمت کا بیڑا پہلے تو اس وقت اٹھایا تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے