خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 646 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 646

خطبات مسرور جلد 14 646 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 اُن کی نظر ہے جیسے حکم کا انتظار ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "میں اس وقت اس مقام پر ٹہل رہا ہوں۔ان کے نزدیک جاکر میں نے کہا کہ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان:78)۔انہوں نے اسی وقت چھریاں پھیر دیں۔جب وہ بھیڑیں تڑپیں تو انہوں نے "چھری پھیر نے والوں نے " کہا کہ تم چیز کیا ہو۔گوں کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " ان ایام میں ستر ہزار آدمی ہیضے سے مرا تھا۔پس اگر کوئی توجہ نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پرواہ ہے۔اس کے کام رُک نہیں سکتے وہ ہو کر رہیں گے۔" آپ نے فرمایا کہ " حضرت مسیح ناصری کے تین سو سال بعد عیسائیت کو ترقی نصیب ہوئی لیکن اگر ہمارے حالات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کے زمانے سے بہت پہلے " انشاء اللہ تعالیٰ " احمدیت کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔" (جماعت احمدیہ دہلی کے ایڈریس کا جواب، انوار العلوم جلد 12 صفحہ 84) پاکستانی مولوی ہوں یا کوئی مذہبی لیڈر ہوں یا دنیاوی طاقتیں ہوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔وہ بھیٹروں جیسے لوگ ہیں۔اور یہ لوگ کبھی بھی احمدیت کی ترقی میں روک نہیں بن سکتے۔لیکن اس کے لئے صرف ہم اپنے مبلغوں پر انحصار نہیں کر سکتے کہ وہ تبلیغ کریں اور احمدیت کو پھیلائیں۔اگر اس ترقی کا حصہ بننا ہے اور ہمیں بننا چاہئے تو ہمیں بھی دعاؤں کی طرف اپنی توجہ پھیرنی ہو گی۔اپنی روحانیت کو بڑھانا ہو گا۔تعلق باللہ کو بڑھانا ہو گا۔اور یہی چیزیں ہیں جو احمدیت کی مخالفت کو بھی ختم کریں گی اور احمدیت کی ترقی میں بھی ہمیں انشاء اللہ تعالیٰ حصہ دار بنانے والی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ مقام عطا فرمائے۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم سفنی ظفر احمد صاحب مبلغ انڈونیشیا کا ہے۔8 نومبر کو ہارٹ اٹیک سے ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔71 سال ان کی عمر تھی۔18 / اگست 1945ء کو پاڈانگ سماٹرا میں یہ پیدا ہوئے۔ان کے والد زینی دہلان صاحب نے 1923ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی اور انہوں نے دو اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر سماٹرا اور جاوا میں جماعت کے تبلیغی مراکز قائم کئے۔اسی طرح سفنی صاحب کے والد انڈو نیشیا کے pioneer مبلغین میں شامل تھے۔زینی دہلان صاحب کے تین بچے تھے جن میں سے سفنی ظفر احمد صاحب کو وقف کرنے کے بعد آپ نے حصول تعلیم کی غرض سے جامعہ احمد یہ ربوہ میں بھجوایا۔سفنی ظفر احمد صاحب 17 / جولائی 1963ء کو ربوہ روانہ ہوئے۔تقریبا گیارہ سال ربوہ میں رہے۔جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی اور 1974ء میں فارغ ہو کے یہ انڈونیشیا واپس گئے جہاں آپ کی پہلی پوسٹنگ انڈونیشیا میں کلیمنتان (Kalimantan) میں ہوئی۔اس کے بعد ویسٹ جاوا میں ریجنل مبلغ اور ریجنل امیر کے طور پر خدمت