خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 645
خطبات مسرور جلد 14 645 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 میں صداقت کے ثبوت کے کئی ایک پہلو ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 11 صفحہ 251 تا253) باوجود مخالفت کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں یہی تھا کہ ان کی تدفین جدی قبرستان میں ہو لیکن بعد میں وصیت کی اور آپ بھی بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دہلی کے سفر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ " انسان جو خدا پر بھروسہ رکھتا ہے وہ کبھی الہی کاموں کی نسبت یہ خیال نہیں کر سکتا کہ ان کا نتیجہ نہیں نکلے گا۔" اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے، یقینا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا بہترین نتیجہ نکالے گا۔آپؐ فرماتے ہیں کہ " میں اس وقت چھوٹا تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دہلی تشریف لائے تھے۔" یہ خطاب آپ دہلی میں دہلی کی جماعت کو کر رہے تھے۔آپ کہتے ہیں کہ میں بہت چھوٹا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لائے۔" آپ یہاں کے اولیاء اللہ کے مزاروں پر گئے اور بہت دیر تک لمبی دعائیں کیں اور فرمایا میں اس لئے دعا کرتا ہوں کہ ان بزرگوں کی روحیں جوش میں آئیں تا ایسانہ ہو کہ ان لوگوں کی نسلیں اس نور کی شناخت سے محروم رہ جائیں جو اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔اور فرمایا کہ یقیناً ایک دن ایسا آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو کھول دے گا اور وہ حق کو قبول کریں گے۔" فرماتے ہیں کہ " میں گو اس وقت چھوٹا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول کا اثر اب تک میرے دل پر باقی ہے۔پس یہاں کی جماعت اپنی کوششوں کا اگر کوئی نیک نتیجہ دیکھنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ خدا پر بھروسہ رکھے۔یقیناً ایک دن ایسا آئے گا کہ جس چیز کو خدا قائم کرنا چاہتا ہے وہ ہو کر رہے گی۔" آپ نے دہلی جماعت کے ایڈریس کے ایک جواب میں یہ باتیں کہی تھیں۔(جماعت احمد یہ دہلی کے ایڈریس کا جواب۔انوار العلوم جلد 12 صفحہ 83-84) پس آج بھی دہلی جماعت کا فرض ہے کہ حکمت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو پہنچائیں۔اب ماشاء اللہ نمائشوں وغیرہ کے ذریعہ سے وہاں تبلیغ میں کافی تیزی آئی ہے لیکن مسلمانوں کی طرف سے مخالفت بھی ہے۔اس لئے ان میں بھی یہ پیغام پہنچانے کی بہت ضرورت ہے اور ان سب چیزوں کے ساتھ سب سے اہم بات جو ہے وہ دعا ہے۔اس طرف بہت زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔پھر مزید اسی تسلسل میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک رؤیا کا بھی ذکر فرمایا کہ "حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک کشف میں دیکھا کہ ایک نالی بہت لمبی کھدی ہوئی ہے اور اس کے اوپر بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیڑ کے سر پر ایک قصاب ہاتھ میں چھری لئے ہوئے تیار ہے اور آسمان کی طرف