خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 42

خطبات مسرور جلد 14 42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 بس لکھا ہوا تھا تینوں دفعہ میاں شریف احمد صاحب کے نام نکلی۔اب دیکھو کتنا خدائی تصرف ہے کہ ایک بار قرعہ ڈالنے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن تین بار ڈالا گیا اور تینوں دفعہ میرے نام آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کی انگوٹھی نکلی اور میاں بشیر احمد صاحب کے نام غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِى رَحْمَتِي وَقَدْرَتن والی انگوٹھی نکلی۔اور میاں شریف احمد صاحب کے حصے میں وہ انگوٹھی آئی جس پر مولی بس لکھا ہوا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نیت کی ہوئی تھی کہ میں آلْيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَ والی انگوٹھی جماعت کو دے دوں گا لیکن میں اس وقت تک اسے کس طرح دے دوں۔جب آپ فرمارہے ہیں اس وقت کہ انتظام ہی نہیں تمہارے پاس اس کو محفوظ کرنے کا جب تک کہ وہ جماعت اس کی نگرانی کی ذمہ داری نہ لے لے۔اگر وہ انگو ٹھی میرے بچوں کے پاس رہے تو وہ کم سے کم اسے اپنی ملکیت سمجھ کر اس کی حفاظت تو کریں گے لیکن میر ادل چاہتا ہے کہ میں یہ انگوٹھی اپنے بچوں کو نہ دوں بلکہ جماعت کو دے دوں۔اس کے لئے میں نے ایک اور تجویز بھی کی ہے کہ اس انگوٹھی کا کاغذ پر عکس لے لیا جائے اور بعد میں اسے زیادہ تعداد میں چھپوا لیا جائے پھر نگینے والی انگوٹھیاں تیار کی جائیں لیکن نگینہ لگانے سے پہلے گڑھے میں اس عکس کو دبا دیا جائے اس طرح ان انگوٹھیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی سے براہ راست تعلق ہو جائے گا۔گویا آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ۔نگ بھی ہو گا اور وہ عکس بھی نگ کے نیچے دبا ہوا ہو گا۔پھر اس قسم کی انگوٹھیاں مختلف ممالک میں بھیج دی جائیں۔مثلاً ایک انگوٹھی امریکہ میں رہے۔ایک انگلینڈ میں رہے۔ایک سوئٹزرلینڈ میں رہے۔اس طرح ایک ایک انگو ٹھی دوسرے ممالک میں بھیج دی جائے تا اس طرح ہر ملک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تبرک محفوظ رہے۔بعد میں پھر آپ نے یہی فیصلہ فرمایا کہ آلیس اللہ والی انگوٹھی خلافت کو دے دی جائے اور آپ نے فرمایا کہ میرے بعد جو بھی خلیفہ ہو اس کو میری یہ انگوٹھی دے دی جائے۔اس طرح وہ آگے چلتی جارہی ہے۔فرماتے ہیں کہ پچھلے دنوں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پرانی تحریر ملی تھی۔میں نے وہ تحریر انڈونیشیا بھیج دی تا اس امانت کو وہاں محفوظ رکھا جائے اور اس سے وہاں کی جماعت برکت حاصل کرے۔اب انڈو نیشیا والے ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا وہ تحریر ان کے پاس محفوظ ہے یا نہیں۔فرمایا کہ مگر الہام میں کپڑوں کا ذکر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ الہام فرمایا تھا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس لئے چاہئے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں کو ایسی جگہ بھجوا دیں جہاں کیڑا نہیں لگتا تا کہ وہ زیادہ لمبے عرصے تک محفوظ رہیں۔پھر آپ نے نوجوانوں کو فرمایا کہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں کیونکہ نئی نئی چیزیں، نئے انتظامات نوجوان زیادہ بہتر رنگ میں کر سکتے ہیں کیونکہ وہ نئی روشنی کے لحاظ سے ، نئی تعلیم کے لحاظ سے، سائنس کے لحاظ سے پڑھے لکھے بھی ہوں گے اور فرمایا کہ اس کو پھر اسلام کی خدمت کے لئے استعمال کریں تاکہ آپ