خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 644 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 644

خطبات مسرور جلد 14 644 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 انسان کا دل بدل سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ حالات کیا کہتے ہیں۔ایسے وقت میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہو ا تائی آئی۔تائی صاحبہ حضرت صاحب کی بھاوج تھیں۔اس لئے ان الفاظ سے یہ مراد تھی کہ آپ اس وقت بیعت کریں گی جس وقت بیعت لینے والے سے ان کا تعلق تائی کا ہو گا۔اگر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنی ہوتی تو الہام کے یہ الفاظ ہوتے بھاوج آئی۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھا بھی تھیں تو بھاوج آئی کا الہام ہو تا۔اگر حضرت خلیفہ اول کے عہد میں بیعت ہوتی تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسیح موعود کے خاندان کی ایک عورت آئی۔مگر تائی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا لڑکا جب آپ کا خلیفہ ہو گا تو اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گی کیونکہ اگر آپ کی اولاد سے کسی نے خلیفہ نہیں ہو نا تھا تو تائی کا لفظ فضول تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ اس الہام میں دراصل تین پیشگوئیاں ہیں۔اول یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں سے خلیفہ ہو گا۔دوم یہ کہ اس وقت تائی صاحبہ جماعت میں شامل ہوں گی۔تیسرے تائی صاحبہ کی عمر کے متعلق پیشگوئی تھی اور وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی اپنی عمر اس وقت ستر سال کے قریب تھی ایک ایسی عورت کے متعلق پیشگوئی کرتے ہیں جو اس وقت بھی عمر میں ان سے بڑی تھیں کہ وہ زندہ رہے گی اور آپ کی اولاد سے خلیفہ ہو گا جس کی بیعت میں وہ شامل ہو گی۔اتنی لمبی عمر کا ملنا بہت بڑی بات ہے۔انسانی دماغ کسی جو ان کے متعلق بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا۔یہ تائی غالباً 1927ء میں فوت ہوئی تھیں۔چہ جائیکہ بوڑھے کے متعلق کہا جائے۔پس یہ ایک بہت بڑا نشان ہے۔گویا ان کا بیعت کرنا اور میرے زمانے میں کرنا۔پھر حضرت مسیح موعود کے بیٹوں میں سے خلیفہ ہونا۔کئی ایک پیشگوئیاں ہیں جو دو لفظوں میں بیان ہوئی ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ تائی جب احمدی ہو ئیں تو اس کے بعد انہوں نے وصیت بھی کی اور اس کی بھی عجیب بیک گراؤنڈ ہے۔کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ جس قسم کی روایات اور احساسات پرانے خاندانوں میں پائے جاتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ عظیم الشان تغیر ہے کہ تائی صاحبہ نے بیعت میں شامل ہونے کے بعد وصیت بھی کر دی تھی۔صرف بیعت نہیں کی بلکہ وصیت بھی کر دی۔پہلے تو وہ اس کی مخالف تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آبائی قبرستان کے بجائے دوسری جگہ دفن کیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اس وقت کہلا بھی بھیجا کہ آپ کو جدی قبرستان کے بجائے دوسری جگہ دفن نہ کیا جائے کیونکہ یہ ایک ہتک ہے اور بعد میں بھی کئی سال تک اس پر معترض رہیں۔مگر پھر ان کی یہ حالت ہو گئی کہ خود وصیت کی اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئیں۔ایک سمجھدار انسان کے لئے یہ بہت بڑا نشان ہے۔ظاہر میں تو یہ معمولی بات ہے جو ایک شخص کے متعلق ہے مگر اس