خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 643 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 643

خطبات مسرور جلد 14 643 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 چونکہ بڑوں کے لئے چھوٹوں کی اطاعت مشکل ہوتی ہے اور مسیح موعود تائی صاحبہ سے چھوٹے تھے اور انہوں نے جائیداد وغیرہ میں حصہ بھی نہیں لیا تھا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جائیداد میں حصہ نہیں لیا تھا اس لئے آپ کا کھاناوغیرہ ان کے گھر سے جاتا تھا، تائی کے گھر سے جاتا تھا اس لحاظ سے بھی وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محسنہ سمجھتی تھیں۔عورتوں میں یہ احساس قدرتی طور پر ہوتا ہے۔اس لئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا دست نگر تصور کرتی تھیں۔اس لئے یہ نہیں سوچتی تھیں کہ آپ نے جائیداد نہیں لی اور جائیداد سب ان کے پاس ہے بلکہ اس لئے کہ میں کھانا بھیجتی ہوں اور کھانا کھلاتی ہوں اور خرچ اٹھا رہی ہوں تو وہ اپنا دست نگر سمجھتی تھیں اور اپنے آپ کو محسنہ سمجھتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک عربی شعر میں فرماتے ہیں کہ لفاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أكَلِي وصرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ تھا جب میں دوسروں کے ٹکڑوں پر بسر اوقات کر تا تھا مگر اب خدا نے مجھے ایسی شان عطا کی ہے کہ ہزاروں ہیں جو میرے دستر خوان سے سیر ہوتے ہیں۔اس شعر میں اس واقعہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت اقدس کی جائیداد علیحدہ نہیں تھی۔بھائی کے ہی سپر د تھی اور آپ میں اس کے سنبھالنے کا احساس بھی نہیں تھا۔چنانچہ آپ کے والد بھی کہا کرتے تھے کہ یہ جائیداد نہیں سنبھال سکے گا۔پس اندریں حالات تائی صاحبہ کا ایمان لانا بڑا مشکل امر تھا۔یہ بعد میں ایمان لے آئی تھیں، مان لیا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دلیل اور مذہبی پہلو سے نہیں بلکہ خاندانی لحاظ سے یہ ساری بیک گراؤنڈ جو بیان ہوئی ہے کیونکہ ان کے نزدیک دونوں کی حیثیت مالک و نوکر کی تھی۔یعنی تائی اپنے آپ کو مالک سمجھتی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نعوذ باللہ نوکر سمجھتی تھیں۔وہ آپ کو ایک غریب آدمی سمجھتی تھیں جو کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا تھا اور ان کے ٹکڑوں پر پلا تھا۔ان حالات میں وہ کبھی گوارا نہ کر سکتی تھیں کہ آپ ان کی بہن کی لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔وہ چونکہ سب سے بڑی تھیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ مخالف تھیں۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت بہت زیادہ تھی۔رشتہ داروں نے آپ سے ملنا ترک کر دیا تھا اور آپ بھی ان سے نہیں ملتے تھے بلکہ خاندان والوں کی مخالفت کا یہ عالم تھا کہ والدہ صاحبہ ، حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سناتی ہیں کہ حضرت صاحب کے نہال میں ایک بڑی عمر کی عورت تھیں وہ بین ڈالا کرتی تھیں کہ چراغ بی بی کے لڑکے کو ہمیں کوئی دیکھنے بھی نہیں دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چور اور ڈاکوؤں کی طرح علیحدہ رکھا جاتا تھا کیونکہ ان کو خاندانی عزت کو بقہ لگانے والا سمجھا جاتا تھا۔ان حالات میں یہ قیاس کرنا کہ تائی احمدی ہو جائے گی بظاہر ایک غیر معمولی بات تھی۔