خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 642
خطبات مسرور جلد 14 642 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا اس وقت اس خاندان میں ستر کے قریب مرد تھے لیکن اب سوائے ان کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی یا روحانی اولاد ہیں ان ستر میں سے ایک کی بھی اولاد نہیں ہے حالانکہ انہوں نے حضرت صاحب کا نام مٹانے میں جس قدر ان سے ہو سکا کوششیں کیں اور اپنی طرف سے پورا پورا زور لگایا۔اور نتیجہ کیا ہوا۔یہی کہ وہ خود مٹ گئے اور ان کی نسلیں منقطع ہو گئیں۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان ہے۔" (خطبات محمود جلد 3 صفحہ 39) پھر تائی صاحبہ کی بیعت کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے آپؐ فرماتے ہیں کہ بعض پیشگوئیاں اور نشانات بظاہر گو چھوٹے ہیں لیکن ان کی کیفیت پر غور کرنے والوں کے لئے ان میں کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن سے ایمان میں بہت اضافہ ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جس کا علم مجھے کل ہی ہوا ہے گو وہ فرد اور اس کی حالت کے متعلق ہے مگر اس میں کئی پیشگوئیاں ہیں۔کئی ایک دوستوں نے بتایا کہ ان کو پہلے ہی معلوم تھا مگر مجھے کل ہی معلوم ہوا ہے۔کل تائی صاحبہ کی وفات کے وقت شیخ یعقوب علی صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک پر انا الہام ہے۔تائی آئی۔یہ تائی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تائی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بھائی کی بیوی۔تو فرمایا ایک الہام پر انا الہام ہے تائی آئی اس کے متعلق پرانے احمدی بتاتے ہیں کہ اس وقت اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ۔لیکن ایک ہی سیدھے سادھے معنی اس فقرے کے یہ ہو سکتے ہیں کہ کوئی ایسی عورت جس کا رشتہ تائی کا ہو وہ آجائے۔آنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں پاس آنا یا جماعت میں آنا۔خالی آجانا کوئی پیشگوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ رشتہ دار آیا ہی کرتے ہیں۔ہمارے ہاں تمام کے تمام بڑے لوگ بھی حضرت صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھا وجہ کو تائی کے لقب سے پکارتے تھے گویا ان کا نام ہی تائی تھا۔سلسلہ کی کتابیں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ محمدی بیگم کی پیشگوئی کے زمانے میں وہ اشد ترین مخالف تھیں۔یعنی یہ تائی بہت سخت مخالف تھیں۔چونکہ وہ خاندان میں سب سے بڑی تھیں اور پیشگوئی بھی ان کی بہن کی بیٹی کے متعلق تھی اس لئے خاندان کے لیڈر کے لحاظ سے اس وقت وہ، اس رشتہ میں روک ڈالنا جس کو وہ خاندانی رسوائی کے مترادف سمجھتی تھیں، اپنا فرض سمجھتی تھیں اور ان کے نزدیک ان کا اہم فرض تھا کہ وہ مقابلہ کریں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ عورتوں کی فطرت کے لحاظ سے بڑی عورت کے لئے عزت اور خاندانی و قار تمام دینی امور بلکہ تمام سیاسیات اور دیگر حالات سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔اس وقت حضرت مسیح موعود کا مسیح ہونے کا دعویٰ ان کے نزدیک یعنی تائی کے نزدیک اس قدر اہم نہیں تھا جس قدر خاندانی عزت تھی۔اور یوں بھی