خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 641 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 641

خطبات مسرور جلد 14 641 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 ہیں کہ ہمارے درجنوں ایسے رشتہ دار ہیں جو احمدیت کی وجہ سے منقطع ہو گئے۔اس واسطے نہیں کہ ہم ان سے نہیں ملنا چاہتے تھے بلکہ اس واسطے کہ وہ نہیں ملنا چاہتے۔ہمیں اپنے خاندان کے لوگوں سے گالیاں ملتی تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں احمدی ہو گئیں وہ ہم کو برا بھلا کہتی تھیں۔آپ فرماتے ہیں مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ جبکہ میری عمر چھ سات سال کی ہو گی میں سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر بار بار یہ کہنا شروع کیا کہ جیہو جیاکاں اوہو جئی کو کو۔اس فقرہ کو انہوں نے اتنی دفعہ دہرایا کہ مجھے یاد ہو گیا۔میں نے گھر میں جا کر یہ بات بتائی۔جب پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے بتایا کہ جیسا تیرا باپ بر ا ہے ویسا ہی بیٹا بھی برا ہے۔آپ فرماتے ہیں قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بائیکاٹ کیا گیا۔لوگوں کو آپ کے گھر کا کام کرنے سے روکا جاتا۔کمہاروں کو روکا گیا۔چوہڑوں کو صفائی سے روکا گیا۔ہمارے عزیز ترین بھائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھاوج اور دیگر عزیز رشتہ دار حتی کہ آپ کے ماموں زاد بھائی علی شیر یہ سب طرح طرح کی تکلیفیں دیا کرتے تھے۔فرماتے ہیں ایک دفعہ گجرات کے علاقے کے کچھ دوست جو سات بھائی تھے قادیان میں آئے اور باغ کی طرف اس واسطے گئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہو تا تھا۔یعنی باغ دیکھنے گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا باغ ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ راستے میں ہمارے ایک رشتہ دار باغیچہ لگوا رہے تھے۔انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ کہاں سے آئے ہو۔اور کیوں آئے ہو تو یہ لوگ جو گجرات سے مہمان آئے تھے انہوں نے کہا کہ گجرات سے آئے ہیں اور حضرت مرزا صاحب کے لئے آئے ہیں۔انہوں نے کہا دیکھو میں ان کے ماموں کا لڑکا ہوں اور میں خوب جانتا ہوں یہ ایسے ہیں اور ویسے ہیں۔ان میں سے ایک نے جو دوسروں سے آگے تھا بڑھ کر ان کو پکڑ لیا اور اپنے بھائیوں کو (باقیوں کو بھی) آواز دی کہ جلدی آؤ۔اس پر وہ شخص گھبرایا تو اس احمدی نے کہا کہ میں تمہیں مارتا نہیں کیونکہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ دار ہو۔میں اپنے بھائیوں کو تمہاری شکل دکھانی چاہتا ہوں کیونکہ ہم سنا کرتے تھے کہ شیطان نظر نہیں آتا مگر آج ہم نے دیکھ لیا کہ وہ ایسا ہوتا ہے۔(ماخوذ از روزنامه الفضل مورخہ 4 دسمبر 1935ء جلد 23 شمارہ 132 صفحہ 3-4) پھر آپ فرماتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا کہ تیرے سوا اس خاندان کی نسلیں منقطع ہو جائیں گی۔" مخالفتیں ہوئیں، سب کچھ ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تسلی دی اور فرمایا کہ نسل جو ہے تجھ سے ہی جاری ہو گی اور باقی سب منقطع ہو جائیں گی۔" چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اب اس خاندان میں سے وہی لوگ باقی ہیں جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے اور باقی سب کی نسلیں منقطع ہو گئیں ہیں۔جس وقت