خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 640
خطبات مسرور جلد 14 640 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 دنیا میں سب سے خطر ناک مخالفت شرکاء کی ہوتی ہے۔پنجابی میں تو مشہور ہے کہ شراکت دادانہ سر دکھدے وی کھانا تو سب سے بڑی مخالفت اعزاء اور اقرباء کی ہوتی ہے کیونکہ وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ انہی میں سے کھڑا ہو کر ایک شخص دنیا میں بڑائی اور عزت حاصل کرے۔وہ جو اس کے مقابلے میں چپہ چپہ زمین کے لئے لڑتے مرتے ہیں وہ کب گوارا کر سکتے ہیں کہ ساری دنیا اس کے پاس آجائے۔اس لئے وہ پورا زور لگاتے ہیں کہ اسے دبائیں حتی کہ جب بے بس ہو جاتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے، وہ بھی کسی نہ کسی طرح دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ شاہ پور کے رئیسوں میں سے کسی کو جب خان بہادر کا خطاب ملا تو اسی خاندان میں سے ایک عورت نے جو بہت غریب تھی اپنے لڑکے کا نام خان بہادر رکھ دیا۔اس سے پوچھا گیا کہ یہ تم نے کیا کیا ہے ؟ یہ نام رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ کہنے لگی معلوم نہیں میرا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے گا۔لیکن لوگ جب نام لیں گے تو جس طرح اس کے شریک کو خان بہادر کہیں گے۔اسی طرح اس کو بھی کہیں گے تو جو کچھ اور نہیں کر سکتے وہ نام رکھ لیتے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو آپ کے رشتہ داروں میں سے بھی ایک شخص نے امام ہونے کا دعویٰ کیا۔شریکوں کی بات ہے۔یہ اب رشتہ داروں میں سے کسی نے کہا کہ آپ نے دعویٰ کیا ہے اور لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تو میں بھی دعویٰ کروں۔حضرت مصلح موعودؓ فارسی کی مثال دیتے ہیں کہ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست کہ ہر کسی کی فکر اور سوچ اس کی ہمت اور اندازے کے مطابق ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یہ دعویٰ کیا کہ میں ساری دنیا کے لئے حکم بنا کر بھیجا گیا ہوں اور چھوٹے درجے کے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے بادشاہوں پر بھی فرض ہے کہ میری اتباع کریں۔لیکن اس کی جو اُن کے شریک تھے نام ہی رکھنے والی بات تھی۔اس نے جو رشتہ دار تھے انہوں نے دعویٰ کیا تو چوہڑوں کے امام ہونے کا دعویٰ کیا۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تو یہاں تک لکھ دیا کہ بادشاہ انگلستان پر بھی فرض ہے کہ مجھے مانے۔چنانچہ خود لکھ کر ملکہ کو جو اس وقت بادشاہ تھی بھیج دیا۔اس کے مقابلے میں چوہڑوں کا امام ہونے کا دعویٰ کرنے والے کی دلیری اور اس کی جماعت کا یہ حال تھا کہ یہاں آکر جب تھانیدار نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی دعوی کیا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ میں نے تو کوئی دعویٰ نہیں کیا۔کسی نے یونہی جھوٹی رپورٹ کر دی ہو گی۔تو شراکت والوں کی سب سے بڑی مخالفت ہوتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 38-39) آپ فرماتے ہیں رشتہ دار اور خاص طور پر جب وہ مخالفین ہو جائیں تو بہت مخالفت کرتے ہیں اور اس وجہ سے پھر ہر جائز ناجائز طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اس کا ذکر کرنے کے بعد آپ فرماتے