خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 635
خطبات مسرور جلد 14 635 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 09 دسمبر 2016ء بمطابق وفتح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جن کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوں، جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ ہم نے نہیں ماننا، انہیں نہ ہی اللہ تعالیٰ کی تائیدات نظر آتی ہیں نہ ہی نشانات نظر آتے ہیں اور انبیاء کا انکار کرنے والوں کا ہمیشہ یہی طریق رہا ہے کہ نشانات دیکھ کر بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں نشان دکھاؤ۔ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ بند کر دیتا ہے پھر وہ سچائی کو پاہی نہیں سکتے اور بعض اوقات نبی کی تائید میں اللہ تعالیٰ انہیں ہی عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین بھی ایسے تھے جن کو باوجود دیکھنے کے اپنی ڈھٹائی کی وجہ سے کوئی نشان نظر نہیں آتا تھا یا نظر پھیر لیتے تھے۔اور پھر ان میں بعض ائمۃ الکفر عبرت کا نشان بھی بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تائید میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے نشانات بتائے کہ یہ یہ پورے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات بھی بتائے کہ آپ نے یہ یہ فرمایا۔یہ پیشگوئیاں فرمائیں، یہ پوری ہوئیں لیکن ان مذہبی سرداروں نے خود بھی نہیں مانا اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا اور اب تک کرتے چلے جارہے ہیں۔ان نشانوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سلسلہ کی سچائی کے لئے مختلف موقعوں پر مختلف نشانات بتائے۔آپ نے جو نشانات بیان فرمائے ہیں اور یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو نشان قرار دیا ہے۔ان میں سے کسوف و خسوف کا نشان ہے یعنی چاند اور سورج گرہن کا نشان ہے۔آپ نے فرمایا کہ جب تک یہ نشان پورا نہیں ہوا تھا مولوی لوگ جو تھے وہ رو رو کر اس حدیث کو پڑھا کرتے تھے اور جب یہ نشان پورا ہوا اور نہ ایک دفعہ بلکہ دو مر تبہ پورا ہوا۔ایک اس ملک میں یعنی ہندوستان میں اور