خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 634
خطبات مسرور جلد 14 634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 مرکز کے لیے اتار دیا اور یوں آپ کو درویشی کی سعادت نصیب ہوئی۔نظام خلافت اور نظام جماعت سے والہانہ محبت تھی۔اللہ پر کامل تو کل اور یقین تھا۔ہر کامیابی اور ناکامی کو خدا کی رضا سمجھ کر قبول کرتے تھے۔اہلیہ بچوں اور قریبی رشتہ داروں سے ہمیشہ حسن سلوک کرتے تھے۔آخری عمر تک اپنے کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتے رہے۔ان کو دفاتر صدرانجمن احمد یہ قادیان میں مختلف صیغہ جات میں خدمت کی توفیق ملی۔آپ کے بیٹے نے بتایا کہ جلسہ سالانہ کی آمد کی وجہ سے آپ نے گھر میں سفیدی کے لیے سیمنٹ منگوا کر رکھا ہوا تھا۔اسی رات آپ نے بلا کر بتایا کہ لگتا ہے کہ میر اوقت قریب ہے۔فلاں شخص سے میں نے پانچ سوروپے لیے تھے وہ ادا کرنے ہیں۔اسی طرح دیگر حساب کتاب بھی بتایا اور پھر تھوڑی دیر میں ہی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹے ہیں۔آپ کے بیٹے مکرم ناصر وحید صاحب قادیان میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔تیسر اجنازه تنویر احمد لون صاحب ناصر آباد کشمیر کا ہے۔یہ پولیس میں تھے۔25 نومبر کو دوران ڈیوٹی ضلعی صدر مقام کو لگام میں نامعلوم بندوق برداروں کی فائرنگ سے وفات پاگئے۔یہ بھی شہید کا ہی درجہ رکھتے ہیں۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔شہید مرحوم صوم و صلوۃ کے پابند، نیک دل، غریب پرور ، ملنسار ، خوش اخلاق، باوفا، نافع الناس، انتہائی دلیر اور متوکل علی اللہ انسان تھے۔مالی قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔چندے ہمیشہ بڑی باقاعدگی سے با شرح اور اضافے کے ساتھ دیا کرتے تھے۔اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دلجوئی اور مدد کرتے اور ان کی تعلیم و تربیت کا ہمیشہ خیال رکھتے۔ہمسایوں کا کہنا ہے کہ آپ حقیقی معنوں میں ہمسائیگی کا حق ادا کرنے والے تھے۔ان کے ڈیپارٹمنٹ والوں کا بیان ہے کہ آپ اپنے مفوضہ فرائض کی ادائیگی میں ہمیشہ چاق و چوبند رہتے تھے۔کبھی بھی غفلت اور کو تاہی سے کام نہیں لیتے تھے۔پسماندگان میں والدہ کے علاوہ دو بہنیں، چھ بھائی اور اہلیہ اور تین معصوم بچے یاد گار چھوڑے ہیں۔آپ کا ایک بچہ تحریک وقف نو میں شامل ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ہمیشہ جماعت اور خلافت سے وابستہ رکھے۔نیکیوں پر قائم رکھے اور خود ان کا کفیل ہو۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 23 دسمبر 2016ء تا29/ دسمبر 2016ء جلد 23 شمارہ 52 صفحہ 05 تا 08)