خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 633
خطبات مسرور جلد 14 633 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 قلب سے ملتے تھے۔طبیعت میں بغض اور کینہ بالکل نہیں تھا۔مختلف لکھنے والوں نے جو لکھا ان سب کا لب لباب یا نچوڑ یہی بنتا ہے جو باتیں، جو اوصاف میں نے شہید کے بیان کیے ہیں۔شہید مرحوم کی والدہ آج کل شدید علیل ہیں۔ان کی بیماری کی وجہ سے ان کو بیٹے کی شہادت کے بارے میں بتانے میں مشکل پیش آرہی تھی لیکن جب ان کے علم میں آیا اور بیٹے کی میت دیکھی تو بے اختیار کہا میرا بیٹا شہید ہے۔کوئی بھی نہیں روئے گا اور اس جملے کو کئی بار دہرایا۔شہید مرحوم کی اہلیہ محترمہ نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے شوہر کی شہادت کی خبر کو سنا اور نہایت اعلیٰ صبر کا مظاہر کیا۔ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ میرے والد میں طبیعت میں غیر معمولی ٹھہراؤ تھا اور خدا پر یقین بہت بڑھا ہوا تھا۔بار بار یہی کہتے تھے خدا نے مجھے بہت عزت دی ہے اتنی عزت کہ میں خود بھی یقین نہیں کر سکتا۔عبادات میں بہت با قاعدہ تھے اور رشتہ دار بھی یہی کہتے ہیں کہ بڑے سادہ، ہمدرد، منکسر المزاج شخص تھے۔مرحوم کے گیارہ بہن بھائی تھے اور سب عیالدار اور شہید مرحوم سب سے حسن سلوک کرتے ، ان کا خیال رکھا کرتے تھے۔ضلع سکھر میں جب جماعتی طور پر حالات خراب ہوئے اور شہادتیں ہوئیں تو شہید مرحوم متعدد مرتبہ کئی کئی روز جا کر وہاں ڈیوٹیاں دیا کرتے تھے۔ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ان کی وفات کے بعد میں نے خواب میں دیکھا ایک بہت بڑا باغ ہے جس میں بہت سے نورانی لوگ جمع ہیں۔سب نے اجلے اور سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور ابو بھی وہاں ہیں۔ان کا بڑا بلند مقام ہے۔سب نے ابو کو گھیر اہوا ہے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور والد صاحب ایک طرف کو چل پڑتے ہیں تو سب لوگ قافلے کی صورت میں ساتھ چلتے ہیں اور سب لوگ ان کے والد کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔شہید مرحوم کی والدہ محترمہ نہایت ضعیف ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔شہادت کے بعد انہوں نے خواب میں دیکھا کہ شہید مرحوم نے اپنی والدہ کو مخاطب کر کے کہا کہ میں یہاں بہت خوش ہوں اور اطمینان سے ہوں۔میری وجہ سے آپ نے بالکل پریشان نہیں ہونا۔ان کے پسماندگان میں والدہ محترمہ، اہلیہ منصورہ یا سمین صاحبہ، بیٹا شیخ حارث محمود اور بیٹی ننا مبشرہ کے علاوہ چار بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اگلا جنازہ مکرم شیخ عبد القدیر صاحب ابن شیخ عبدالکریم صاحب کا ہے جو درویش قادیان تھے۔26/ نومبر 2016ء کو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے 92 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت حضرت عبد اللہ سنوری صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے آئی۔نومبر 1947ء میں جب قادیان سے آخری قافلہ پاکستان کے لیے روانہ ہو ا تو آپ اپنی بیمار والدہ کو سہارا دے کر ٹرک میں بیٹھے تھے کہ قادیان کی سرحد کے قریب آپ کی والدہ نے ٹرک رکوا کر آپ کو حفاظت