خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 632
خطبات مسرور جلد 14 632 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 لے کر آئے اور ابھی گاڑی میں ہی بیٹھے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے آپ پر چار فائر کئے اور پھر موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے پلٹ کر دوبارہ چار فائر کیے اور موقع سے فرار ہو گئے۔فائرنگ کے نتیجہ میں ایک گولی ساجد محمود صاحب کے سینے میں دائیں طرف لگی اور پہلی سے لگ کر بائیں طرف سے آر پار نکل گئی اور ایک گولی ٹانگ میں لگی۔ساجد محمود صاحب کو فوری طور پر قریب ہی واقع ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں سے انہیں آغا خان ہسپتال شفٹ کر دیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور علاج شروع ہونے سے پہلے ہی جام شہادت نوش کیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے پڑدادا مکرم شیخ فضل کریم صاحب کے ذریعہ سے ہوا جنہوں نے 1920ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔شہید مرحوم کے والد شیخ مجید احمد صاحب پاکستان بننے پر کانپور سے ہجرت کر کے لاہور آئے تھے اور 1961ء میں کراچی میں سکونت اختیار کی۔شہید کے دادا مکرم خواجہ محمد شریف صاحب مرحوم جماعت احمدیہ دہلی دروازہ لاہور کے لمبے عرصہ تک صدر رہے۔آپ کے پڑنا نا حضرت صاحب الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔اسی طرح مکرم سیٹھ محمد صدیق بانی صاحب مرحوم آف کلکتہ شہید مرحوم کی اہلیہ کے نانا ہیں۔شہید مرحوم نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔پانچ سال انتہائی مشکل حالات میں گزارے۔اس کے بعد فلاور ملز کے سپیئر پارٹس کی سپلائی کا کاروبار شروع کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت دی اور وسیع کاروبار ہو گیا۔شہید مرحوم کے بیٹے حارث محمود صاحب جو ہیں نائب قائد مجلس بھی ہیں اور گلشن اقبال کراچی کے سیکرٹری وصایا بھی ہیں۔بیٹے نے بھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اے سی سی اے (ACCA) کرنے کے بعد والد کے ساتھ ہی کاروبار میں شمولیت اختیار کی۔شہید مرحوم بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔اسی طرح شہید کی بیٹی شنا مبشرہ کراچی میں زیر تعلیم ہیں اور ان کو امریکہ جانے کا چھ مہینے کا سکالر شپ بھی ملا جہاں سے وہ ایک شارٹ کورس کر کے آئیں۔مرحوم خلافت سے بے پناہ محبت اور گہری وابستگی رکھنے والے تھے۔اولاد کو بھی خلافت اور نظام جماعت سے جڑے رہنے کی تلقین کرتے تھے۔چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے اور بیٹے کو بھی تلقین کرتے تھے۔ہمیشہ اپنے چندہ جات کے حوالے سے فکر مند رہتے تھے اور چندے کی ادائیگی کے لیے دکان میں ہی الگ ایک گلہ رکھا ہوا تھا جس میں ساتھ کے ساتھ چندے کی رقم ڈالتے رہتے تھے۔لین دین میں بہت کھرے اور دیانتدار، ہمیشہ سچائی کو مد نظر رکھنے والے، در گذر سے کام لینے والے تھے۔بہن بھائیوں سے شفقت کا سلوک کرتے اور کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوتے تھے۔مرحوم ایک نفیس اور پاکیزہ خیالات کے حامل شخص تھے۔رحمی رشتوں کی بہت قدر کرتے تھے۔شہید مرحوم نے اپنی دودکانوں کے نام بھی اپنے مرحوم والد اور مرحوم سسر کے نام پر رکھے ہوئے تھے۔اپنی اہلیہ کے رشتہ داروں سے مثالی حسن سلوک کرتے تھے۔دوستوں اور سب رشتہ داروں سے صفائی