خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 631
خطبات مسرور جلد 14 631 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 بعض باتیں ایسی ہیں جہاں گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر گواہ پیش نہیں ہوئے تو پھر اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور بہر حال پھر اس کا فیصلہ شریعت کے مطابق، قرآن کے مطابق ہو گا۔بعض دفعہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹی قسم کھالی اور اپنے آپ کو بچالیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ایک دفعہ ایسا معاملہ آیا۔دو جھگڑنے والے آئے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک فریق قسم کھائے گا۔دوسرے نے کہا یہ تو جھوٹا شخص ہے یہ تو سو قسمیں بھی کھالے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔اگر یہ جھوٹی قسمیں کھاتا ہے تو اس کا معاملہ پھر خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ خود ہی اسے سزا دے دے گا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 33 صفحه 265 تا 271 خطبہ بیان فرمودہ 15 ستمبر 1952ء) پس یہ ہمیشہ یادر کھنا چاہیے کہ کسی کی شکایت پر فیصلہ صرف اس کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق نہیں ہو گا۔شکایت پر فیصلہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ہو گا۔جہاں دو گواہوں کی ضرورت ہے وہاں دو گواہ پیش کرنے ہوں گے۔جہاں چار گواہوں کی ضرورت ہے وہاں چار گواہ پیش کرنے ہوں گے اور اس کے مطابق ہی پھر تحقیق بھی ہو گی اور فیصلہ بھی ہو گا۔ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے معاملات اور فیصلے کرنے والے بنیں اور اپنی ذاتی اناؤں اور توجیہات کو بنیاد بنا کر انتظامیہ کو مجبور کرنے والے یا خلیفہ وقت کو مجبور کرنے والے نہ ہوں کہ اس کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔اللہ تعالیٰ شکایت کرنے والوں کو بھی عقل دے کہ وہ اگر صحیح سمجھتے ہیں تو پھر کھل کر تمام ثبوتوں کے ساتھ شکایت کریں جس میں ان کا نام پتہ بھی ہو اور پھر تحقیقات میں وہ بھی شامل ہوں گے۔جب لوگ دیکھتے ہیں کہ حقیقت میں جماعتی نظام میں کوئی رخنہ پڑ رہا ہے تو پھر جرآت سے سامنے آنا چاہیے اور شکایت کرنی چاہیے اور ہر چیز کا پھر مقابلہ کرنا چاہیے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نظام جماعت جو ہے اس کو بھی توفیق دے اور عقل دے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے جو فیصلہ کرنے پر مقرر کیے گئے ہیں وہ بھی جب فیصلہ کر رہے ہوں تو انصاف کے ہر پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اور سنت کے مطابق فیصلے کرنے والے بنیں۔نمازوں کے بعد میں جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ تو ایک شہید کا جنازہ ہے۔مکرم شیخ ساجد محمود صاحب ابن مکرم شیخ مجید احمد صاحب جن کی عمر 55 سال تھی۔حلقہ گلزار ہجری ضلع کراچی میں رہتے تھے۔مخالفین نے 27 / نومبر 2016ء کی شام کو نماز مغرب کے وقت گھر کے باہر گاڑی میں بیٹھے ہوئے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تفصیل کے مطابق شیخ ساجد محمود صاحب گلشن معمار کراچی میں فلور ملز کے سپیئر پارٹس کی سپلائی کا کام کرتے تھے اور 27 / نومبر 2016ء کی شام کو نماز مغرب کے وقت بازار سے گھر کا سوداسلف