خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 630 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 630

خطبات مسرور جلد 14 630 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 102 سمبر 2016 آزاد ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شریعت کے قواعد پر چلنے کے لیے مجبور تھے۔پس اس شخص نے بعض ایسے اعتراضات کیے ہیں جن پر شریعت حد لگاتی ہے اور شریعت نے ان کے لیے گواہی کا جو طریق مقرر کیا ہے اس طریق پر چلناضروری ہے۔لیکن وہ کہتا ہے کہ فلاں نے قرآن کریم کافلاں حکم توڑا ہے اسے سزاد ولیکن مجھے کچھ نہ کہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔مجھے بچپن کا ایک لطیفہ یاد آگیا اس وقت میں نے اس سے بہت مزا اٹھایا تھا اور اب بھی مجھے یاد آتا ہے تو ہنسی آتی ہے۔کہتے ہیں کہ پانچویں یا چھٹی جماعت میں میں پڑھتا تھا تو ہمارے استاد نے یہ طریق مقرر کیا ہوا تھا کہ ان کے سوال کا جواب جو طالبعلم وقت مقررہ میں دے دے وہ اوپر کے نمبر میں آجائے گا۔ہم کھڑے تھے۔استاد نے سوال کیا ایک لڑکے نے اس کا جواب دیا۔دوسرے نے ہاتھ بڑھا کر کہاماسٹر جی یہ جواب غلط ہے۔ماسٹر صاحب نے پہلے لڑکے سے کہا تم نیچے آجاؤ اور دوسرے کو کہا تم او پر چلے جاؤ۔نیچے آتے ہی اس لڑکے نے جو پہلے اوپر کے نمبر پہ تھا کہا کہ ماسٹر صاحب اس نے میری غلطی نکالتے ہوئے غلظ لفظ کو غلط کہا ہے جو غلط ہے۔اس استاد نے پھر اسے سابق جگہ پر کھڑا کر دیا اور دوسرے لڑکے کو پھر نیچے گر ادیا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ یہی حالت بعض معترضوں کی ہوتی ہے۔وہ دوسرے پر غلط یا صحیح اعتراض کرتے ہیں لیکن اعتراض کا طریقہ مجرمانہ ہو تا ہے اور اس طرح اس کو سزا دلاتے دلاتے خود سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں اور پھر شور مچاتے ہیں کہ مجرم کو کوئی پکڑتا نہیں۔جو توجہ دلاتا ہے اسے سزا دیتے ہیں۔حالانکہ سزا دینے والے کیا کریں وہ بھی تو شریعت کے غلام ہیں۔اگر قرآن کریم کی حکومت کو قائم کرنا چاہتے ہو تو اپنے پر بھی خدا تعالیٰ کی حکومت کو قائم کرو۔اگر تم یہ چاہتے ہو کہ دوسروں پر تو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم ہو اور تم پر خد اتعالیٰ کی حکومت قائم نہ ہو تو یہ درست بات نہیں ہے۔میں شکایت کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ " ایاز اقدر خود بشناس" کہ ایاز تم اپنی قدر اور اپنی حیثیت کو پہلے یاد رکھو اور پہچانو۔نام چھپانے والے اپنا نام چھپا کر دوسروں پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور الزاموں میں جو ثبوت پیش کر رہے ہوتے ہیں وہ یہ کہ فلاں تو فلاں خاندان کا ہے۔فلاں کی حیثیت نہیں ہے۔فلاں ایسا ہے۔اور ان الزاموں کی کوئی حقیقت بھی نہیں ہوتی اور الزام لگانے والے خود اصل میں بے حیثیت لوگ ہوتے ہیں۔اس لیے ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہمارا رب بھی ہے اور ہر ایک کا رب ہے۔وہ رزق بھی دیتا ہے اور پالتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ہم سب کچھ لے رہے ہیں تو پھر بات اللہ تعالیٰ کی مانی جائے گی نہ کہ ان الزام لگانے والوں کی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ شکایتیں کرنے والے لوگ یہی چاہتے ہیں کہ دوسروں کو شریعت کے مطابق سزادی جائے اور خود اپنے آپ کو شریعت کے حکموں سے باہر نکال دیتے ہیں، بری کر دیتے ہیں۔خود ہی اپنے منصف بن جاتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کو بھی جب بات سامنے آئے گی، کھلے گی تو پھر شریعت کے مطابق ہی سزا ملے گی۔