خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 629
خطبات مسرور جلد 14 629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ مجھے شوق ہوا کہ پوچھوں کیا جواب ملا۔چنانچہ میں نے دریافت کیا کہ مولوی صاحب ! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا فرمایا؟ مولوی صاحب نے کہا کہ جب میں نے حضور سے کہا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ لوگ کیا کہیں گے ؟ تو آپ نے فرمایا آخر وہ کیا کہیں گے۔یہی کہیں گے ناں کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کے ساتھ یوں پھر رہے تھے۔مولوی صاحب شرمندہ ہو کر واپس آگئے۔حضرت ام المومنین نے پردہ کیا ہوا تھا اور پھر میاں بیوی کا اکٹھے پھر نا قابل اعتراض بھی نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی بیویوں کے ساتھ پھرتے تھے۔ایک دفعہ لوگوں کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ دوڑے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دفعہ پیچھے رہ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیت گئیں۔کچھ عرصے کے بعد دوسری دفعہ پھر دوڑے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ سے جیت گئے اور وہ ہار گئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا۔يَا عَائِشَهِ تِلْكَ بِتِلْک۔کہ عائشہ اس ہار کے بدلے کی یہ بار ہو گئی۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ پھر نا معیوب خیال نہیں فرماتے تھے اور جس بات کی اجازت اسلام نے دی ہے اس کو عیب نہیں کہا جاسکتا۔پس اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر اعتراض کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے نزدیک وہ شخص اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کرتا۔آپ پھر شکایت کرنے والے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ لیکن اس نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ فلاں چھوٹے درجہ کا ہے۔وہاں پھر خاندانی اور ذاتی اعتراضات بھی اس پر شروع ہو گئے۔فلاں کمینہ ہے اور اس کو آپ نے فلاں عہدہ دیا ہوا ہے اور بعض الزامات ایسے لگائے جس کے متعلق شریعت نے گواہ طلب کیے ہیں اور گواہ بھی نگی رؤیت کے طلب کیے ہیں۔یعنی شریعت اس کے متعلق یہ کہتی ہے کہ نگی رؤیت کے چار گواہ ہوں تو وہ شکایت کرنے میں حق پر ہے ورنہ نہیں۔بعض لوگ یو نہی کسی لڑکے لڑکی کے تعلقات کے الزام لگا دیتے ہیں اگر تعلقات کے الزام لگانا ہیں تو اس کے لیے چار گواہ بھی اسلام میں ضروری ہیں۔آپ فرماتے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ دین کی غیرت ایسے شخص کو پیدا ہوئی جو خود قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے اور دوسروں پر ایسے الزامات لگاتا ہے جن سے قرآن کریم نے منع فرمایا ہے اور نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ ان پر ایسے الزامات پر حد بھی مقرر کی ہے کہ کسی پر غلط الزام لگانے والے، ایسا کہنے والے جو ہیں ان کو اسی کوڑے لگاؤ۔گویا شریعت نے اس بارے میں جو اتنا شدید حکم دیا ہے وہ اسے تو توڑتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ فلاں شخص قرآنی تعلیم کے خلاف چلتا ہے حالانکہ وہ خود قرآنی تعلیم کے خلاف چل رہا ہو تا ہے۔آپ فرماتے ہیں دیکھو شکایت کرنے والے کی حیثیت کیا ہوئی۔پہلے تو اس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا پھر جو ثبوت ضروری ہیں وہ پیش نہیں کیے۔شریعت کے قواعد سے نہ تو میں آزاد ہوں نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام