خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 628
خطبات مسرور جلد 14 سنت پر 628 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 پر عمل کرنا ہی ہے اور قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ کھل کے جب بات کی جائے تو اس کے ثبوت بھی مہیا کیے جائیں، تحقیق بھی کی جائے۔جب نام ہی ظاہر نہیں ہو رہا تو تحقیق کس طرح ہو گی اور یہ قرآن کریم کے حکم کے صریح خلاف ہے۔پس شکایت کرنے والا خود قرآن کریم کے حکم کو توڑتا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنا ہی نیکی ہے۔یہ بات ہمیشہ یادر کھنی چاہیے۔چاہے کسی کو اپنے ذوقی نقطہ نظر سے یا معاشرے کے زیر اثر کوئی بات بری لگے لیکن اگر قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق وہ صحیح ہے تو وہ صحیح ہے اور اس میں کوئی عیب نہیں۔بعض لوگ اپنی طبیعت اور رسم و رواج سے متاثر ہو کر بعض معاملات میں سختی دکھاتے ہیں لیکن ان کی باتیں چاہے وہ دین کے نام پر ہی ہوں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس بات کی وضاحت میں حضرت مصلح موعودؓ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔یہ واقعہ پہلے بھی کئی دفعہ اس تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے۔اب اس حوالے سے آرہا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ام المومنین کو ساتھ لے کر سٹیشن پر پھر رہے تھے۔ان دنوں پر دے کا مفہوم بہت سخت لیا جاتا تھا۔اس زمانہ میں بڑا سخت پردہ ہو تا تھا سٹیشن پر ڈولیوں میں عور تیں آتی تھیں۔بڑے لوگ جو خاندانی لوگ کہلاتے تھے، ان کی عور تیں تو ڈولیوں میں بیٹھ کر آتی تھی اور دائیں بائیں اس کی چادر میں گری ہوتی تھیں اور پھر وہاں ٹرین کے ڈبے تک اسی طرح بند ڈبے میں آتی تھیں اور ڈبے کے اندر بند چلی جاتی تھیں۔پردے کا ایسا انتظام تھا اور جب ڈبے میں بیٹھ جاتی تھیں تو پھر کھڑکیاں بند کر دی جاتی تھیں تاکہ کسی کی عورت پر نظر نہ پڑے۔آپ فرماتے ہیں یہ پر دہ تکلیف دینے والا تھا اور اسلام کی تعلیم کے خلاف تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے تھے۔حضرت ام المومنین برقع پہن لیتی تھیں اور سیر کے لیے باہر چلی جاتی تھیں۔اس دن بھی حضرت ام المومنین نے برقع پہنا ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو ساتھ لئے ہوئے پلیٹ فارم پر ٹہل رہے تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت خلیفہ المسیح الاول بھی ساتھ تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب کی طبیعت میں تیزی تھی۔ان کو خیال ہوا کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔خود تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہنے کی جرأت نہیں تھی، حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے پاس گئے اور کہا کہ مولوی صاحب یہ کیا غضب ہو گیا۔کل اخباروں میں شور پڑ جائے گا۔اشتہارات اور ٹریکٹ نکل آئیں گے کہ مرزا صاحب پلیٹ فارم پر اپنی بیوی کو ساتھ لے کر پھر رہے تھے۔آپ جا کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سمجھائیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے کہا اس میں کیا برائی ہے ؟ مجھے تو کوئی برائی نظر نہیں آرہی۔اگر آپ کو کوئی برائی لگ رہی ہے تو خود ہی جا کر کہہ دیں۔بہر حال مولوی عبد الکریم صاحب حضرت مسیح موعود کے پاس گئے۔آپ ٹہلتے ہوئے بڑی دور چلے گئے تھے اور واپس جب آئے تو گردن جھکی ہوئی