خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 627

خطبات مسرور جلد 14 627 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ اگر ہم جانتے بھی ہوں کہ شکایت کرنے والا شخص بڑا محتاط ہے۔راستباز بھی ہے، مخلص بھی ہے اگر وہ کسی کی شکایت کرتا ہے تو تب بھی سب کچھ جاننے کے باوجو د لازماً اس کی بھی تحقیق کرنی پڑے گی اور تحقیق ہو گی۔یہ بھی یقین ہو جائے جیسا کہ میں نے کہا کہ شکایت کرنے والا نیک بھی ہے، راستباز بھی ہے، غلطی نہیں کیا کرتا اور اس میں اخلاص بھی ہے تو پھر بھی اس معاملہ کی تحقیق کرنا ہو گی اور اس کے بارے میں تحقیق ہو گی۔کیونکہ کوئی فرد یہ نہیں کہہ سکتا کہ کیونکہ میں یہ کہہ رہا ہوں اس لیے یونہی سمجھنا چاہیے اور اس کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے۔آپ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے۔نماز کے دوران تلاوت کرتے ہوئے کوئی غلطی ہو گئی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقتدیوں میں شامل تھے انہوں نے لقمہ دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا۔آپ نے انہیں کہا کہ تمہیں کس نے کہہ دیا کہ لقمہ دو۔آپ فرماتے ہیں کہ اس ناپسندیدگی کا ایک یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ تمہارے ذمہ اور بڑے کام ہیں۔ان چھوٹے چھوٹے کاموں کو اوروں کے لیے رہنے دو اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ کام ان قاریوں کا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم سیکھتے تھے تم یہ کام ان کے لیے رہنے دو۔حضرت مصلح موعودؓ اپنے پاس اس بے نام شکایت کرنے والے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے شکایت کرنے والا کوئی بڑا آدمی ہو تو میں اسے کہوں کہ تم ان باتوں کو کسی اور کے لیے رہنے دو اور اپنے اصل کام کی طرف متوجہ رہو۔پس لکھنے والے نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔اس لیے اس کے درجے اور حیثیت کا علم نہیں ہو سکتا۔اس کو سمجھایا نہیں جاسکتا۔دوسری بات یہ کہ اس نے بہت سے عہدیداروں، ناظر وں اور لجنہ کے بھی عیب بیان کرنے شروع کر دیئے تھے اور بڑے غلط قسم کے الزام لگائے تھے اور کہا کہ فلاں فلاں میں یہ عیب ہے۔ایک طرف تو وہ ان لوگوں کی شکایت کر رہا ہے کہ وہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف کام کرتے ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف کام کرنا ہی بہت بڑا عیب ہے اس لیے بہت بڑا عیب ان میں پایا جاتا ہے۔اگر کوئی مسلمان قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا تو وہ عیب نہیں ہے۔لیکن اگر اس تعلیم کے خلاف وہ کوئی کام کر رہا ہے تو وہ عیب ہے۔بہر حال یہ شکایت کرنے والا ایک طرف تو یہ کہہ رہا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔دوسری طرف خود اس کے خلاف جاتا ہے کہ اس نے شکایت اور اس کے ثبوت کی جو شرائط رکھی ہیں وہ خود ان کو توڑ رہا ہے اور اکثر لوگ یہی کرتے ہیں۔مجھے بھی جب لکھتے ہیں تو ان شرائط کو ہی توڑ رہے ہوتے ہیں۔اصل چیز تو قرآن کریم کے احکامات پر اور