خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 626
خطبات مسرور جلد 14 626 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 پر لڑ پڑتا ہو۔فسق کے معنی ادنی اطاعت کے بھی ہیں۔اطاعت سے باہر نکلنے والا بھی فاسق ہے۔فاسق کے معنی تعاون نہ کرنے والے کے بھی ہیں۔لڑا کا بھی اور تعاون بھی نہ کرنے والا ہو۔فاسق کے معنی اس شخص کے بھی ہیں جو لو گوں کے چھوٹے چھوٹے قصوروں کو لے کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ جو اس نے بیان کیا ہے اس کے مطابق دوسرے کو انتہائی سزا ملنی چاہیے۔کوئی معافی کا امکان نہیں ہے۔تیز مزاج کو بھی فاسق کہتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک احمدی دوست کے بارے میں بیان فرماتے ہیں، جو پرانے مخلص احمدی تھے کہ جہاں تک ان کے اخلاص کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں لیکن ان کو چھوٹی سی بات پر انتہائی فتویٰ لگانے کی عادت تھی۔آپ کہتے ہیں کہ ان کی طبیعت میں یہ مرض تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر کفر سے ورے نہیں ٹھہرتے تھے۔کوئی بات پکڑی اور کفر کا فتویٰ لگا دیا۔مثلاً آپ لکھتے ہیں کہ فرض کرو کہ تشہد میں بیٹھے ہوتے ہیں، جب التحیات میں بیٹھے ہیں تو اپنے دائیں پاؤں کی انگلیاں جو سیدھی نہیں رکھتا، پاؤں سیدھار کھنے کا حکم ہے تو ان کے نزدیک وہ کفر کی حد تک پہنچ جاتا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نقرس کی تکلیف کی وجہ سے ان کو gout تھا دائیں پاؤں کی انگلیاں تشہد کی حالت میں سیدھی نہیں رکھ سکتا۔پہلے جب پاؤں ٹھیک ہو تا تھا تو رکھا کرتا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر حافظ صاحب۔وہ حافظ تھے۔زندہ ہوتے تو غالباً شام تک وہ مجھ پر بھی کفر کا فتویٰ لگا دیتے۔تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔اس لیے لگاتے کہ یہ پاؤں کی انگلیاں سیدھی نہیں رکھتے اور ایسا کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔پس معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ایمان نہیں۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ایمان نہیں تو قرآن کریم پر بھی ایمان نہیں اور اگر قرآن کریم پر ایمان نہیں تو اللہ تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں لہذا کافر ہو گئے۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ نے ایسے جلد بازوں کی چاہے وہ مخلص بھی ہوں یہ مثال دی ہے۔لیکن جو نام بھی چھپاتا ہو اور خود ایمان میں بھی کمزور ہو اور دوسروں پر فتوے بھی لگاتا ہے تو وہ ان تمام معنی کے لحاظ سے جو فاسق کے بیان کیے گئے ہیں فاسق ہی ٹھہر تا ہے۔پس ان تمام شکایت کرنے والوں پر جو نام نہیں لکھتے واضح ہونا چاہیے کہ ان کا یہ فعل کہ اپنی شناخت کے بغیر شکایت کریں قرآنی حکم کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ پہلے شکایت کرنے والے کے بارے میں تحقیق کرو۔اگر صرف شکایت کرنے والے کی بات پر ہی بغیر تحقیق کے عمل ہونے لگ جائے جس کا وہ مطالبہ کرتا ہے تو جماعت بجائے ترقی کے انحطاط کی طرف جانا شروع ہو جائے گی۔انحطاط کا شکار ہو جائے گی۔خلیفہ وقت کی بھی نظام جماعت کی بھی اپنی کوئی تحقیق نہیں ہو گی جو کوئی کہے گا اس کے مطابق عمل ہونا شروع ہو جائے گا اور یہ چیز پھر ترقی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ہر کوئی اٹھے گا اور یہی کہے گا کہ میری خواہشات کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔